اسلام آباد، 03 مئی (اے پی پی ): وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ماہ رمضان میں اشیائے خوردو نوش کی فراہمی کو نہ صرف یقینی بنایا جائے بلکہ اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ضرورت کی تمام اشیاء مقرر شدہ ریٹ پر عوام کو دستیاب ہوں ، انتظامیہ کے افسران فیلڈ میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔
وزیرِ اعظم آفس میں رمضان پیکج 2019کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان میں عوام کو اشیائے خوردونوش کی طے شدہ نرخوں پر فراہمی، بجلی گیس، پانی کی دستیابی کی مانیٹرنگ کیلئے صوبائی حکومتوں کی سطح پر کنٹرول روم بنائے جائیں تاکہ فیلڈ افسران کی جانب سے روازنہ کی بنیاد پر بھیجی جانے والی رپورٹس کا جائزہ لیا جا سکے اور ماہ رمضان میں انتظامی کنٹرول کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کوعوام کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے اور حکومت کی ہر ممکنہ کوشش ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں خوردو نوش کی طے شدہ قیمتوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کے ضمن میں انتظامیہ، ضلعی مارکیٹ کمیٹیوں کا متحرک کردار، وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں مکمل رابطہ اور صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ بہت اہمیت کی حامل ہے۔
وزیرِ اعظم نے واضح ہدایت کی کہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی شکایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور انتظامیہ ایسے عناصر کے خلاف فوری ایکشن کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان کے پیش نظر متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ سحر و افطار کے اوقات میں بجلی، گیس اور پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال پر مکمل نظر رکھی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ رمضان بازاروں میں فراہم کی جانے والی اشیاء کے معیار کو یقینی بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔
اجلاس میں مشیر تجارت عبدالزراق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، ترجمان ندیم افضل چن وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزادر، صوبائی وزراء مخدوم ہاشم جوان بخت، میاں عاصم اقبال، تیمور سلیم جھگڑا، وفاقی و صوبائی سیکرٹریز، چیف سیکریٹریز و دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔
سورس : وی این ایس، اسلام آ باد











