مزدوروں کے حقوق کے تحفظ پر سمجھوتہ کیے بغیر صنعتی ترقی کے فروغ اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں: وزیر اعظم

167

اسلام آباد،06ستمبر( اے پی پی): وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کاروباری طبقے خصوصا چھوٹے اور درمیانے طبقے کے صنعتکاروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کو پنجاب میں واقع صنعتوں اور انکو درپیش مسائل خصوصا ً مختلف محکموں کی جانب سے انسپیکشن کی مد میں پیش آنے والی مشکلات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور صنعتوں میں کام کرنے والے ورکرز اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے موجودہ طریقہ کار اورمزدوروں اور انکے خاندان کو صحت، تعلیم اور دیگر سہولتوں میں مزید بہتری کے لئے اقدامات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ  بجلی کی مختلف کمپنیوں کے ڈیٹا کے مطابق صوبہ پنجاب میں تقریباً226600  صنعتی یونٹس ہیں۔ جن میں سے 55,435کے کنکشن منقطع ہو چکے ہیں۔ تاہم لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے پاس 22475صنعتی یونٹس ریجسڑڈ ہیں۔ اسی طرح محکمہ سوشل سیکیورٹی کے پاس 77448یونٹس کا ریکارڈ ہے۔ ای او بی آئی میں تقریبا 63500صنعتی یونٹس ریجسٹرڈ ہیں۔اسی طرح خیبر پختونخواہ میں پیسکو کے ریکارڈ کے مطابق لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پاس  24415صنعتی یونٹس کا اندارج ہے۔

  وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صنعتی یونٹس کا متعلقہ محکموں کے پاس اندراج نہ ہونے کے سبب  جہاں  ورکرز اور مزدوروں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں وہاں  دوسری جانب ریجسٹرڈ شدہ یونٹس کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں کی جانب انسپیکشن کی مد حراساں کیے جانے کی شکایات موصول ہوتی ہیں  جس سے صنعتی ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

اس موقع پر  وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیبر اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے  جہاں صنعتی یونٹس کا اندراج کرنا ضروری ہے  وہاں اندراج شدہ یونٹس کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ صنعتی عمل کسی تعطل کا شکار نہ ہو۔  اجلاس میں صوبہ پنجاب میں  صنعتوں کے لئے انسپکٹر  لیس رجیم  (Inspector Less Regime) پر  اور ضروری عوامل سے متعلق انسپیکشن کا عمل تھرڈ پارٹی سے کرائے جانے  پر  بھی اصولی اتفاق  ہوا۔

 اجلاس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ زبیر گیلانی، وزیرِ صنعت پنجاب میاں محمد اسلم اقبال، وزیرِ برائے لیبر انصر مجید خان اور متعلقہ وفاقی و صوبائی محکمہ جات کے سینئر افسران  بھی شریک تھے۔

سورس: وی این ایس، اسلام آباد