کتاب “پشتون فلمی دنیا میں” کی تقریب رونمائی

145

اسلام  آباد، 12 مارچ (اے پی پی ): پشتو  کلچر کی نمائندگی اور فلمی اداکاروں کی دنیا بھر میں فن کاری اور انکی تاریخ پر مبنی کتاب “پشتون فلمی دنیا میں” کی تقریب رونمائی آج قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقد ہوئی، کتاب میں پشتو رائیٹر اور قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر محمد حنیف خلیل نے پشتو فلمی سلسلے اور فنکاروں کے بھکرے ہوئے سلسلے کو سمیٹا۔

تقریب کے مہمان خصوصی افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق انتہائی مشکل کام ہے، اس کتاب میں بہت تفصیل ہے، اس موضوع پر کام کرنے پر حنیف صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، فلم جدید میڈیم ہے ہمارا معاشرہ روائیت و جدیدیت میں بٹا رہا۔ حنیف بابر نےبکھرے ہو ئے  فلمی سلسلے کو سمیٹ کر اس کتاب میں سمویا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستانی آئین  میں علاقائی زبانوں کو جگہ ملنی چاہیے، ہندستان کے آئین میں 70 زبانوں کو جگہ ملی ہے۔ملت سازی اس طرح کے اقدامات سے ہوتی ہے، بندوق کے زور پر ریاست نہیں بنتی۔

 تقریب  میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پشتو زبان میں فلمی دنیا کے ستاروں کوزندہ کیا ہے یہ حنیف خان کی پشتو زبان کی خدمت کی ہے، انہوں نے کہا کہ تمام زبانوں میں اسکا ترجمہ ہونا چاہے، اس سے قومی یگانیت بڑھے گی۔یہ کتاب اس لئے ضروری ہے کہ پشتون قوم گزشتہ 40 سال سے دہشت گردی کی جنگ لڑ رہی ہے۔پشتون قوم  کی تباہی کا جو نقصان ہوا اسکو ختم تو نہیں کم کیا جاسکتا ہے،پشتون علاقوں  کو جو آگ لگی ہوئی ہے اس کو قلم کے زریعے بجھانا ہوگا۔

فلم سٹار جمیل بابر نے کہا کہ فلمسٹار وقت کی دھول کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں، اس کتاب کے ذریعے فلمی ستاروں کو زندہ کیا گیا ہے۔غیر سنجیدہ لوگوں کی انٹری کے بعد فلم انڈسٹری تباہ ہوگئی، فلمی صنعت  میں ہمارے پڑوسی ملک آگے جاتا رہا اور ہم پیچھے جاتے رہے۔فلم واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی بات، اپنا  نظریہ اپنی سوچ بااثر طریقے سے دنیا میں پہنچا سکتے ہیں۔

 سینیٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ  پشتوزبان میں شائع ہوئی کتاب عرصہ دراز سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والی پشتون قوم کی تخلیقی و فنی دوڑ میں خدمات اور صلاحیتوں ابھارنے میں اہم کردار ادا کریگی۔

تقریب میں سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر، افراسیاب خٹک، سینیٹر سیف علی خان اور  جمیل بابر سمیت دیگر فلمی ادارکاروں نے  بھی شرکت کی۔