لاہور24 جون (اے پی پی)صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہاہے کہ پنجاب میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں کی کُل تعداد 69536 ہے جس میں سب سے بڑی تعداد لاہور میں 34708ہے۔اسی طرح راولپنڈی میں 5554، فیصل آباد میں 4606، ملتان میں 4337، گوجرانوالہ میں 2461،سیالکوٹ میں 1839اورگجرات میں تعداد1836 ہے۔گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کا شکار ہونے والوں کی کل تعداد 1228 ہے اور جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 21ہے۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں بہترین علاج کے بعد کورونا وائرس کو شکست دے کر گھر جانے والوں کی تعداد تقریباً 20ہزار کے قریب ہے۔صوبہ بھر میں کورونا وائرس کے 4لاکھ45ہزار339تشخیصی ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج 90شاہراہ قائداعظم پر اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس، سپیشل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سلوت سعید، ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال اور ایس پی سکیورٹی لاہور بلال ظفر موجود تھے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس موقع پر مزید کہاکہ اب تک لاہورکے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے شکار738مریض زیرعلاج ہیں۔جن میں سے 439سرکاری جبکہ نجی ہسپتالوں میں 299مریض زیرعلاج ہیں۔اس وقت ہمارے پاس لاہور کے سرکاری ہسپتالوں کے ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس میں 250بستر جبکہ 60وینٹی لیٹرزخالی ہیں۔صوبہ بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے مختص کئے جانے والے بستروں کا تیس فیصد دستیاب ہیں۔ 11جون کو لاہور میں کورونا وائرس سے متاثرہونے والے مریضوں کی تعداد 1118جبکہ آج مریضوں کی تعداد 738ہے۔وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت کے مطابق کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹوں کی تعدادکو بڑھایاگیا ہے۔دس روز قبل لاہور میں کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ایک جامع پلان مرتب کیاگیا تھاجس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے طبی سہولیات میں اضافہ کرنا تھاجس کے تحت ایچ ڈی یوز میں بستروں کی تعداد 1228کر دی گئی ہے اور آئی سی یوز کی تعداد بھی 187سے بڑھا کر 205کر دی گئی ہے۔نشتر ہسپتال ملتان میں بستروں کی تعداد 202جبکہ ایچ ڈی یوز میں بستروں کی تعداد 16سے بڑھا کر 32کر دی گئی ہے اور وینٹی لیٹرز کی تعداد بھی 16سے بڑھا کر 26کر دی گئی ہے۔طیب اردگان ہسپتال میں وینٹی لیٹرز کی تعداد 16سے بڑھا کر 30کر دی گئی ہے۔بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی کے آکسیجن بستروں کی تعداد 147سے بڑھا کر 347کر دی گئی ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی راولپنڈی میں آکسیجن بستروں کی تعداد 80سے بڑھا کر 260کر دی گئی ہے۔پنجاب میں وینٹی لیٹرز کی تعداد 242سے بڑھا کر268کر دی گئی ہے اور ایچ ڈی یوز میں بستروں کی تعداد 471سے بڑھا کر 707کر دی گئی ہے۔ہولی فیملی ہسپتال میں آکسیجن بستروں کی تعداد 44سے بڑھا کر 64کر دی گئی ہے جبکہ میوہسپتال لاہور،نشترہسپتال ملتان، انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی راولپنڈی، سوشل سکیورٹی ہسپتال اور پی کے ایل آئی میں 66وینٹی لیٹرز کا اضافہ کیاگیا ہے۔این ڈی ایم اے کی جانب سے 34پورٹ ایبل وینٹی لیٹرز، 10ایکسرے مشینیں اور 96بائی پیک مشینیں وصول کی گئی ہیں جو پنجاب کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے تین پی سی آر مشینیں عطیہ کی ہیں جن میں سے ایک پی سی آر مشین جناح ہسپتال لاہور، دوسری قائداعظم کالج بہاولپور اور تیسری پی سی آر مشین شیخ زاید ہسپتال لاہور کو دی گئی ہے تاکہ وہاں تشخیصی ٹیسٹوں کی تعداد کو بڑھایاجاسکے۔اگلے دس سے بارہ روز میں سیالکوٹ، رحیم یار خان اور سرگودھا میں بی ایس ایل لیول تھری لیبز قائم کی جائیں گی۔پنجاب میں کورونا وائرس کے مریضوں کو مندرجہ بالا تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔پنجاب میں روزانہ کی بنیاد پر کورونا وائرس کے دس سے گیارہ ہزار تشخیصی ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔ایک ٹیسٹ کی قیمت پانچ ہزار روپے ہے جس کی سہولت حکومت عوام تک مفت مہیاکر رہی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ کچھ روز پہلے لاہور میں کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کچھ علاقہ جات کو مکمل بندکیاگیا تھا،جن کی تعداد میں آج مزید اضافہ کیاجا رہا ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے بعض علاقہ جات میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ گئی ہے اور چندعلاقہ جات میں کیسز میں کمی بھی سامنے آئی ہے۔آج رات بارہ بجے کے بعد اگلے ایک ہفتے کیلئے گلبرگ، ماڈل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، ڈی ایچ اے،گلشن راوی اور اندرون شہر کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔وباء کے پھیلاؤ کو مزید روکنے کیلئے ان علاقہ جات کو لازمی بند کرنا ہوگا۔نشاندہی کرنے والے علاقہ جات میں عوام کی جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی سامنے آئی جس کی وجہ سے کورونا وائرس کے کیسز میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ملکی معیشت کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے حکومت کو مارکیٹس کھولناپڑا۔حکومت کو عام آدمی کی تکلیف کا مکمل احساس ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ معیشت کی بحالی میں کسی قسم کی رکاوٹ کو حائل نہ ہونے دیاجائے۔اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ابھی بھی پنجاب میں کورونا وائرس کے حوالے سے حالات قابو میں ہیں اور سمارٹ لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس کے کیسز میں واضح کمی سامنے آئی ہے۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کا بہترین علاج معالجہ جاری ہے اور ڈاکٹرز دن رات کورونا وائرس کے مریضوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔مارکیٹس میں ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔بطورقوم ہماری یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس وباء کو شکست دینے کیلئے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہاکہ بند کئے جانے والے علاقوں میں میڈیکل سٹورز،تندور، دودھ دہی کی دکانیں، بیکریز و دیگر روزمرہ زندگی کی ضروریات سے متعلقہ دکانوں کو بند نہیں کیا جائے گا۔فوڈ مارکیٹس اور فوڈ سپلائی کی چین کو بھی نہیں روکا گیاہے۔سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس، محکمہ تعلیم سمیت دیگر تمام متعلقہ محکمہ جات سے مکمل رابطہ میں ہیں اور تعلیمی اداروں کو کھولنے سے متعلق باقاعدہ فیصلہ ساری صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کے بارے میں بے بنیاد اور من گھڑت خبروں کا بازار گرم ہے۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں سے بیس ہزار کے قریب کورونا وائرس کے مریض صحتیاب ہوکر اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں جو ڈاکٹرز اور عملہ کو دعائیں دیتے ہوئے ہسپتالوں سے خیرخیریت سے رخصت ہوئے ہیں۔پنجاب میں کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ دیگر وبائی بیماریوں کے تدارک کیلئے بھی اقدامات باقاعدگی سے اٹھائے جا رہے ہیں۔تمام سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز میں معمول کے مطابق مریضوں کا علاج معالجہ جاری ہے۔ حکومت کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے اور اس سے متاثر ہونے والے مریضوں کے علاج معالجہ کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ کورونا وائرس کو شکست دے کر گھر جانے والے مریضوں کو اپنا پلازمہ صدقہ جاریہ کے تحت عطیہ کرنا چاہیے تاکہ ان کے باقی بہن اور بھائی بھی اس وبا کو شکست دے سکیں۔ اطلاع ملی ہے کہ لوگوں نے اپنا پلازمہ بھی فروخت کیا ہے جس پر اب سخت قانون سازی کر دی گئی ہے اور ایکشن لیا جا رہا ہے۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ میں باقاعدہ پلازمہ بنک قائم کر دیئے گئے ہیں۔پلازمہ تھیراپی، ایکٹیمرا انجکشن و دیگر ادویات کے ابھی ٹرائلز جاری ہیں جس کے استعمال سے کورونا وائرس کے شکار کئی مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے شخص کا غسل، کفن و دیگر دیگر آخرسی رسومات پر بتائی گئی ہدایات پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں علمائے کرام نے انتہائی مثبت کردار ادا کیا ہے۔ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر جانے والے مریضوں کے اہل خانہ کی سہولت کی خاطر نماز جنازہ کی ایس او پیز میں نرمی لائی گئی ہے۔ جس کی مزید تفصیلات کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کے اگلے اجلاس میں زیر بحث لانے کے بعد میڈیا کے سامنے رکھی جائیں گی۔اب کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہونے والے شخص کی نماز جنازہ میں اس کے اہل خانہ کا ایک فرد بھی شامل ہو سکے گا۔اس حوالے سے نئی ریسرچ کے مطابق عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔
وی این ایس، لاہور











