پشاور، 25جون(اے پی پی): مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا اجمل وزیر نے کہا ہے کہ تہکال واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوراٹر کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔غلطی کرنے والا کوئی بھی ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائیگا، کسی ایک کی غلطی کیوجہ سے پورے ادارے کو بدنام نہیں کرنا چاہیے۔
تہکال ویڈیو سے متعلق واقعہ کے بارے میں پولیس لائنز پشاور میں ایمرجنسی پریس کانفرنس بلائی گئی جس میں اجمل وزیر اور سی سی پی او پشاور محمد علی گنڈا پور نے شرکت کی۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا کہ انکوائری کے لئے کمیٹی بنائی گئی ہے، اے آئی جی چییرمین، ڈی آئی جی اور سی سی پی او کمیٹی کے ممبر ہونگے جو شفاف تحقیقات کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ تہکال واقعے کا وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا اسلئے جتنے بھی اہلکار ملوث ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کردی گئی ہے۔ اس معاملے میں ایس ایچ او سمیت چار اہلکار ملوث ہیں جس میں تین اہلکار گرفتار ہیں، کیس کی انکوائری میں ایس ایس پی پشاور تک کے آفیسر سے تفتیش ہوگی جسکی رپورٹ کل تک پیش کی جائے گی۔
اجمل وزیر نے کہا کہ تین چار لوگوں کی غلطی پر پورے صوبے کی پولیس کو نشانہ بنایا جارہا ہے، سوشل میدیا پر پولیس کی قربانیوں پر پانی ڈالا جارہا ہے۔ پولیس نے ہر محاز پر فرنٹ لائن پہ کام کیا ہے اسلئے کوئی بھی آفیسر ہو اس کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اس حوالے سے سی سی پی او محمد علی گنڈاپور نے کہا کہ یہ واقعہ درندگی کا واقعہ ہے ملوث ہونے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں ملے گی۔ ایف آئی آر میں ساری ضروری دفعات شامل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں ایس ایچ او نظر نہیں آرہا ہے اس لئے اسے حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔
وی این ایس ، پشاور











