اسلام آباد، ۴ جون ( اے پی پی): رابطہ کمیٹی برائے سلانہ منصوبہ بندی کا مشاورتی اجلاس ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلا س میں کرونا وبا کے پیش نظر ملک کے ترقیاتی فریم ورک کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق آئندہ سال شرح نمو دو فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے۔اجلاس میں پبلک سیکٹر پروگرام کا مجموعی حجم 630 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت انفراسٹرکچر کے لیے 59 فیصد فنڈز تجویز کیے گئے ۔کرونا وبا کے پیش نظر عام آدمی کو ریلف پہنچانے کے لیے صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ بھی دی گئی۔ اجلاس میں پی ایس ڈی پی کے تحت 35 فیصد فنڈز سماجی شعبے کو مختص کرنے کی تجویز دی گئی۔ اگلے مالی سال میں 185 ارب روپے سماجی شعبے کو مختص کرنے کی تجویز ۔گزشتہ مالی سال میں 16 فیصد فنڈز سماجی شعبے کے لیے مختص کیے گئے تھے۔
اجلاس میں صحت ، تعلیم ، صاف ماحول ، صاف پانی کی فراہمی اور معیار زندگی بہتر بنانے کے منصوبوں پر خصوصی توجہ ۔ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کے لیے 159 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ۔توانائی کے شعبے کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ۔پانی کے شعبے کے لیے 64 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ۔صحت اور بہبود آبادی کے شعبوں کے لیے 18 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ۔تعلیم بشمول ہائر ایجوکیشن کمیشن 34 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ۔فزیکل پلاننگ اور ہاوسنگ کے شعبے کے لیے 19 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ۔پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے 41 ارب روپےمختص کرنے کی تجویز ۔
اجلاس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 40 ارب روپے اور سابقہ قبائلی علاقوں کے لیے 40 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ۔عام آدمی کے معیار زندگی میں بہتری کے لیے 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی۔
وی این ایس، اسلام آباد











