پشین،11جولائی(اے پی پی): چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہاکہ عدالتوں کاکام سائلین کی دادرسی کرکے انہیں انصاف مہیا کرنا ہے جبکہ عوامی کے حل کیلئے حکومت اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا اسی لیے دور دراز علاقوں کے عوام کو ان کی دیلیز پر انصاف کی فراہمی اوّلین ترجیح ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع پشین کے تحصیل کاریزات خانوزئی میں نوتعمیرشدہ جوڈیشل کمپلیکس کےافتتاح کی تقریب کے موقع پر ماتحت عدلیہ کے ججز، ڈسٹرکٹ اور تحصیل بار کے آراکین سمیت قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ہاشم خان کاکڑ، بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین منیراحمد کاکڑ، چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی سلیم لاشاری، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید باسط شاہ ایڈووکیٹ، بار کونسل کے ممبر خلیل پانیزئی ایڈووکیٹ، پشین بار کے صدرعبدالہادی ترین ایڈووکیٹ، خانوزئی بار کے صدر امین اللہ غرشین ایڈووکیٹ اور ملک عابد پانیزئی ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر جسٹس کامران ملاخیل، جسٹس عبداللہ بلوچ، جسٹس ظہرالدین کاکڑ، جسٹس روزی خان بڑیچ، جسٹس اعجاز سواتی، جسٹس عبدالحمید بلوچ، جج انسپکشن آفتاب لون، رجسٹرار ہائی کورٹ راشد محمود، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشین سعات خان بازئی، ایڈیشنل سیشن جج محمدانور محمدشہی، رکن صوبائی اسمبلی عبدالواحد صدیقی، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر آصف ریکی، کمشنر کوئٹہ ڈویژن عثمان علی خان، ڈپٹی کمشنر پشین قائم لاشاری، پشین بار کے سابق صدر نورخان ترین ایڈووکیٹ، میروائس خان ترین ایڈووکیٹ، عبدالمناف بادیزئی ایڈووکیٹ، عمران بریال ایڈووکیٹ، امان اللہ کاکڑ ایڈوکیٹ، خدائنور کاکڑ ایڈووکیٹ، اشرف بازئی ایڈووکیٹ، اور دیگر جوڈیشل افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر محکمہ بی اینڈ آر کے چیف انجینئر محمد ایوب ناصر نے 30 ملین کی لاگت سے تعمیر شدہ جوڈیشل کمپلیکس کے حوالے سے چیف جسٹس کو تفصیلی بریفنگ دی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ لوگوں کو تعلیم، صحت اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اوّلین ذمہ داریوں میں شامل ہے اور اس سلسلے میں عام لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
وی این ایس،پشین











