گذشتہ دوسال کے دوران حکومت نے  الیکٹرک وہیکلز اور موبائل مینوفیکچرنگ کی پالیسیز متعارف  کرائی ؛ حماد اظہر

116

اسلام آباد ، 18 اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ کووڈ 19- کی وبا کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھرکی صنعت اور کاروبار متاثر ہوئے لیکن ہم نے وبا کے دوران سپلائی چین کو بحال رکھا تاکہ مارکیٹ میں کسی قسم کی قلت نہ ہو۔ حماد اظہر نے کہا کہ حکومت نے وبا کے دوران کاروبار، صنعت اور تعمیرات کے شعبوں کو بروقت کھولا اور کاروباری شعبہ کو ریلیف دیا گیا جس کے تحت 30 تا 35لاکھ ایس ایم ایزکے بجلی کے بل معاف کیے گئے جس سے ملک کے اکثر کاروبار مستفید ہوئے ہیں، رواں مالی سال کےلئے حکومت نے نہ صرف ٹیکس فری بجٹ دیا ہے بلکہ پہلے سے موجود ٹیکسوں کی شرح کو بھی کم کیا گیا ہے، ہزاروں مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹیزختم اور سیلز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسزمیں بھی مراعات دی گئی ہیں، وفاقی حکومت نے تعمیرات کے شعبہ کےلئے پیکج متعارف کرایا ہے جس سے نہ صرف تعمیرات کا شعبہ بلکہ ذیلی صنعتوں میں بھی بہتری ہوئی ہے اور مون سون کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

منگل کو حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے بارے میں یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے گذشتہ دوسال کے دوران دو نئی پالیسیاں متعارف کرائی ہیں جن میں الیکٹرک وہیکلز اور موبائل مینوفیکچرنگ کی پالیسیز شامل ہیں۔

 حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل ملک میں استعمال ہونے والے موبائل فونز سمگل ہوتے تھے،حکومت نے 70فیصد استعمال ہونے والے سمارٹ فونزکی سمگلنگ پر قابو پایا ہے، حکومتی اخراجات میں بچت اور بہتر انتظام کار کےلئے حکومت کے پانچ ادارے دیگر اداروں میں ضم یا ٹرانسفر کئے جاچکے ہیں جبکہ دیگر اداروں کی اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کئی شعبہ جات کو سرد خانے میں ڈالا گیا جس کی ایک مثال پاکستان سٹیل ملز ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان سٹیل ملز کو تنخواہوں کی مد میں 35ارب روپے ، بیل آﺅٹ پیکجز کے تحت 80 ارب روپے جاری کئے گئے جس کے بعد بھی ادارے پر236 ارب روپے کا قرضہ ہے۔

 انہوں نے کہا کہ وزارت صنعت نجکاری کمیشن کے ساتھ مل کر پی ایس ایم کی بحالی کے اقدامات کررہی ہے، حکومت نے کھاد تیار کرنے والے دو پلانٹس کو فعال کرکے کھاد کی قیمت میں کمی کے اقدامات کئے ہیں جس سے حکومت کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔ مزید برآں حکومت نے چینی کے کارٹلزکے خلاف اقدامات کئے ہیں اور وزیراعظم عمران خان نے شوگر ریفارمزکمیٹی تشکیل دی ہے جو کام کررہی ہے۔ صنعتی شعبہ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی مجموعی فروخت میں 40فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گذشتہ مالی سال کے دوران ملک میں 2561ملین ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی گئی ہے جو گذشتہ 11 سال کے دوران سرمایہ کاری کی بلند ترین شرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی برآمدات کی شرح نمو 6فیصد ہے ، حکومت نے برآمدات کے فروغ کےلئے ریفنڈزکے بروقت اقدامات اور انرجی کی سبسڈیز دی ہیں۔ حماد اظہر نے کہا کہ گذشتہ دور حکومت میں دھاگہ بنانے والے 200 کارخانے بند ہوگئے تھے لیکن اب سپننگ کے شعبہ میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گذشتہ دورحکومت میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا اور 27پوائنٹس کا ہدف دیا گیا جن میں سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دو سالہ دور اقتدارمیں 14اہداف مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ بقیہ 13 میں سے 11اہداف بھی جزوی طور پرمکمل ہیں جو رواں سال مکمل کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم سے پاکستان پر تنقید کی جاتی تھی تاہم اب بین الاقوامی برادری مالیاتی نظم وضبط کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو سراہتی ہے۔