وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ایس سی او وزراءخارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب

0
712

ماسکو، 10 ستمبر ( اے پی پی): وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایس سی او وزراءخارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ ہمارے ممالک کورونا وبا کے اثرات سے نکل رہے ہیں جس سے آج ہمیں یہاں مل بیٹھنے کا موقع میسرآیا ہے۔ میں وزیر خارجہ جناب لاوروف کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس کی میزبانی فرمائی اور اپنی گرمجوش میزبانی سے نوازا۔ کورونا عالمی وبا نے ایک طرف دنیا بھر میں انسانوں کی زندگیوں اور معاش کو بری طرح متاثر کیا ہے تو دوسری جانب اس نے مشترک خطرات اور مسائل سے مل کر لڑنے کی اہمیت کو بھی دو چند کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کٹھن حالات ومشکلات کے باوجود ہم نے ایس سی او میں نفع مند اشتراک عمل جاری رکھا ہے جو روسی فیڈریشن کی قیادت میں یک جہتی اور باہمی تعاون کا مظہر ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایس سی او کے اپنے قیام کے بیس سال مکمل کرنے کے موقع پر ہم علاقائی تعاون کو فروغ دے کر درپیش بحران کو ایک نئے امکان میں بدل سکتے ہیں تاکہ ایس سی او کی حقیقی صلاحیت کھل کر سامنے آئے۔ مئی اور جولائی 2020 میں ایس سی او وزرائے خارجہ وصحت کے ورچوئل اجلاس کورونا وبا سے نمٹنے کے لئے کثیر الملکی، فیصلہ کن اور اشتراک عمل پر مبنی کاوشوں کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے خاص طورپر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو۔ایچ۔او) کے ذریعے اشتراک عمل میں سرفہرست کردار کیا جا سکتا ہے۔ ہم صحت عامہ کے ماہرین، سائنسدانوں اور محققین کو سلام پیش کرتے ہیں جو اس جراتمندانہ کاوش کے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کورونا وبا سے موثر انداز میں نمٹنے کے حوالے سے اپنے تجربات سے دنیا کو مستفید کرنے کے لئے تیار ہے جس کی بناءپر آج کورونا سے متاثرہ افراد اور اموات میں نمایاں کمی آچکی ہے۔ پاکستان اس بحران سے نمٹنے کیلئے چین کی طرف سے عالمی برادری بشمول پاکستان کو دیے گئے موثر تعاون کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہے کہ چین نے اس مشکل صورتحال سے نبردآزما ہونے میں مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی وباءکے منفی معاشی اثرات سے نمٹنے کے لئے بھی یہی جذبہ دکھانا ہوگا۔ اس امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ”عالمی سطح پر قرضوں کی ادائیگی پر سہولت کی فراہمی “ کی تجویز پیش کی تاکہ ترقی پزیر ممالک معاشی مسائل کی دلدل سے نکل سکیں اور انہیں صورتحال کا مقابلہ کرنے میں سہولت میسرآئے۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عالمی وباءکو سیاست کے لئے استعمال کرنا اور کسی بھی خطے، مذہب یا طبقے کو اس سے نتھی کرنا یا جھوٹ پر مبنی الزام دھرنا بھی غلط ہے۔

پاکستان ایس سی او شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ اعادہ کرنے میں شامل ہے کہ عالمی تعلقات کی استواری میں”شنگھائی جذبہ“ مرکزیت رکھتا ہے اور اس ضمن میں بنیادی اصول اورعالمی قانون کے معیارات ناگزیرہیں۔ دنیا آج تیزی سے طاقت کی کثیراطراف میں تقسیم ہورہی ہے۔ پرانی اور نئی طاقتوں کے ابھرنے سے دنیا میں مقابلے کی فضا پہلے ہی بین الاقوامی تعلقات کو نئی جہات سے ہمکنار کررہی ہے۔ توقع کے عین مطابق یہ عمل ہموار نہیں۔ کثیراالطراف، عالمی قوتوں اور مشترک ترقی کی قوتیں ایک طرف اور یک طرفہ سوچ، تنہائی پسند اور اپنی ذات تک محدود قوتیں دوسری جانب ہیں جن میں باہمی کشاکش نے بے انتہاء غیریقینی کی صورتحال پیدا کررکھی ہے۔ ہماری پختہ سوچ ہے کہ غیریقینی اور سفاک مسابقت کے اس ماحول میں ٹکراو کی جگہ تعاون کو عالمی سیاسیات کی رہنما قوت ہونا چاہئے۔ اس تناظر میں ایس سی او جیسے کثیرالملکی فورمز مشعل راہ اور امیدکی کرن ہیں۔

 اقوام متحدہ کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہم ایس سی او کے اس اصرار کی پرزور حمایت کرتے ہیں کہ عالمی امن اور سلامتی اور عالمی ترقی بڑھانے میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ہونا چاہئے۔

ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاح کے اپنے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں اتفاق رائے کی راہ اپنائی جائے تاکہ سلامتی کونسل عوام کی زیادہ نمائندگی کے ساتھ جمہوری، موثر اور جوابدہی کے پیمانے پر تشکیل پائے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ترقی، معاشی نشوونما، غربت کا خاتمہ اور عوام کے سماجی معیار کی بہتری کے اہداف کے حصول کے لئے لازمی تقاضا دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ہونا ہے۔

اس تناظر میں ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ایمانداری سے عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازعہ خطوں کے سٹیٹس کو تبدیل کرنے کے لئے ہر قسم کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کی شدید مذمت اور پرزور مخالفت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی ہماری اولین ترجیح ہے جس سے ہم نبردآزما ہیں۔ ہمیں کسی ملک کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کو اپنی سیاسی مہم کے لئے ذریعے کے طورپر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینا کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک، مذہب یا نسل کو موردالزام ٹھرائے۔

ہمیں علاقوں پر غیرقانونی قبضے اور وہاں استبداد میں رہنے والے عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرنے والوں کی مذمت کرنا ہے اور انہیں جوابدہ ٹھرانا ہے۔

فسطائیت، عسکریت پسندی اور متشدد قوم پرستی کے خلاف فتح کی 75 ویں سالگرہ مناتے ہوئے ہمیں اعادہ کرنا ہوگا کہ انتہاءپسندی، دیگر اقوام اوراسلام سے نفرت وبیزاری کے رویوں کی آج کی دنیا میں کوئی گنجائش نہیں۔

ہم ایرانی جوہری معاملے پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کے موثر عمل درآمد کے ایس سی او شراکت داروں کے موقف میں شریک ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ خلاءکو اسلحہ کی دوڑ سے بچانے، بائیولاجیکل ہتھیاروں کے کنونشن (بی۔ڈبلیو۔سی) اور انٹرنیشنل انفارمیشن سکیورٹی پر ایس سی او کا غوروخوض اس ضمن میں بحث کے لئے سود مند ہوگا اور ہمیں ان معاملات پر یکساں موقف اختیار کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

روک تھام اور تخفیف اسلحہ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کیلئے نئے قانونی ضابطوں کی فوری ضرورت ہے۔ ہمیں مل کر ایس سی او کو علاقائی ترقی کے ایک موثر فورم اور اپنی طرز کی نئی عالمی تنظیم کے طورپر اجاگر کرنا چاہئے جو”شنگھائی جذبے“ کے مقاصد پرمبنی ہے۔