پشاور، 11ستمبر(اے پی پی): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے صوبہ بھر کے اعلی پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاشرے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں اورپرو ایکٹیو پولیسنگ کے ذریعے جرائم کی روک تھام کو یقینی بنائیں ۔
یہ ہدایات انہوں نےجمعہ کو سنٹرل پولیس آفس پشاور سے صوبہ بھر کے ریجنل پولیس افسروں کے ساتھ ویڈیولنک کانفرنس کرتے ہوئے جاری کیں۔آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کا کام بہت مشکل اور چیلنجز سے بھر پور ہے۔ معاشرے میں کسی بھی وقت سماج دشمن عناصر کی جانب سے محتلف نوعیت کے جرائم سرزد ہو سکتے ہیں اور اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ جرائم کو سرزد ہونے سے پہلے پہلے ناکام بنائیں اور کسی بھی وقوعہ کی صورت میں فوری رسپانس کرتے ہوئے موقع پر جاکر میڈیا کے ساتھ ابتدائی اطلاعات شیئر کریں ۔ اعلیٰ پولیس حکام کو پولیس کا امیج مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ۔ آئی جی پی نے کہا کہ آئس نشہ بالخصوص نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے اور ریجنل پولیس افسروں کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں بالخصوص آئس نشے کےخلاف جاری مہم میں مزید تیزی لائیں ۔ اعلیٰ پولیس حکام کو معاشرے کے کمزور طبقوں بشمول اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا نے اور ان کو ظلم اور تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف فوری اور سخت کاروائی عمل میں لانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ آئی جی پی نے پشاور میں حالیہ واقعات میں پولیسنگ کے معیار اور کارکردگی کی تعریف کی۔
آئی جی پی نے صوبے میں 19ستمبر سے شروع ہونے والے پولیو مہم کے دوران فول پروف سکیورٹی پلان ترتیب دینے اور ضلعی پولیس افسران کو متعلقہ حکام کے ساتھ مل بیٹھ کرلائحہ عمل اپنانے کی بھی ہدایت کی۔ آئی جی پی نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک اہم قومی فریضہ ہے اور پولیس انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں کی حفاظت ہر قیمت پر یقینی بنائے ۔ آئی جی پی نے حالیہ محرم کے دوران بہترین سکیورٹی انتظامات کرنے پر ساری پولیس فورس کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ خیبرپختونخوا پولیس اسی طرح اپنی بہترین کارکردگی سے عوام کے دل جیت کر آگے بڑھے گی۔











