اسلام آباد , 29 ستمبر (اے پی پی) :سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی عوامی نمائندوں کی اولین ترجیح ہونی چاہئے، دیگر ترقیاتی منصوبوں کی نسبت پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر زیادہ توجہ دی جائے، بلوچستان میں پانی کی زیادہ قلت کا سامنا ہے، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے اس مسئلہ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ منگل کو یہاں حفظان صحت کے عنوان پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وزارت کے زیر اہتمام منعقدہ ورکشاپ سے اپنے افتتاحی خطاب میں سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پینے کا صاف پانی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے، گزشتہ دور حکومت میں بطور سپیکر صوبے میں صاف پانی کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی عوامی نمائندوں کی اولین ترجیح ہونی چاہئے، عوامی نمائندے دوسرے ترقیاتی منصوبوں کی نسبت عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنانے پر زیادہ توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں کی نسبت بلوچستان کو پانی کی زیادہ قلت کا سامنا ہے۔ بلوچستان میں پانی کی زیرِ زمین سطح 11 سو فٹ ہے۔ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے پینے کے صاف پانی کی قلت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پینے کے صاف پانی کیلئے چھوٹے ڈیم تعمیر کئے گئے ہیں۔ چھوٹے ڈیموں کی بدولت نہ صرف ان علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی ممکن ہوئی بلکہ زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ مستقبل میں دنیا میں سب سے زیادہ تنازعات پانی پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور صاف پانی کی سہولیات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے حفظان صحت کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہونے ضرورت ہے، حکومتوں کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں کو بھی ان سہولیات کی فراہمی کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان میں 52 فیصد آبادی کو صاف پانی، صفائی اور حفظان صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں، پینے کے صاف پانی تک آسانی رسائی پاکستان کے آئین کے مطابق بنیادی حقوق کا حصہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صحت، صفائی کی سہولیات تک رسائی میں کمی عوام کی صحت و تندرستی خصوصاً بچوں اور خواتین کی صحت و تندرستی پر برے اثرات مرتب کرتی ہے، صفائی کے بارے میں آگاہی ضروری ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا اور فلاحی تنظیموں کو بھی صفائی کے بارے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے ہداف کے مطابق 2030ءتک ملک کی تمام آبادی کے لئے پینے کے صاف پانی کا انتظام کرنا ہے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کو اس سلسلے میں موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ ورکشاپ میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل ارکین پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں کے ممبران، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔











