بھارتی وزیراعظم کے ہندوتوا اور فاشزم پر مبنی نظریات امن کیلئے خطرہ ہیں؛ سینیٹر شبلی فراز

135

اسلام آباد ، 3 ستمبر (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ بھارت میں 2014ءمیں وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے سے اب تک مسلمانوں کیلئے خطرات میں اضافہ ہوا ہے، مودی کا نظریہ نسلی اور مذہبی منافرت کی مہم کے سوا کچھ نہیں، بھارتی وزیراعظم کے ہندوتوا اور فاشزم پر مبنی نظریات امن کیلئے خطرہ ہیں، بھارتی وزیراعظم کو سمجھنا چاہئے کہ بھارت میں اقلیتیں مذہبی منافرت سے تحفظ اور مذہبی آزادی کا مساوی حق رکھتی ہیں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھارت میں اسلامو فوبیہ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی فاشسٹ آر ایس ایس کے تربیت یافتہ تھے جو نسلی برتری کے نظریے پر یقین رکھتے تھے اور انہوں نے مسلمانوں میں خوف پھیلا کر اپنے ووٹ بینک میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیہ کا تصور ایک مشکل حقیقت رہا ہے تاہم حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسے ایک آلہ کار کے طورپر استعمال کر رہا ہے جو کہ ان کے سیاسی تسلسل کا آئینہ دار ہے، 2014ءاور 2019ءمیں انتخابات میں اس نے کامیابی حاصل کی حالانکہ وہ 2002ءمیں گجرات فسادات میں انگنت مسلمانوں کے وحشیانہ قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نام نہاد سیکولرریاست سے صرف ہندو ملک بننے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کو اسلامو فوبیہ سے متعلق اپنے مذموم عزائم پر سوچ و بچار کرنا چاہئے اور انہیں عالمی امن کو داﺅ پر نہیں لگانا چاہئے۔ بھارتی وزیراعظم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ بھارت میں اقلیتیں مذہبی منافرت سے تحفظ اور مذہبی آزادی کا مساوی حق رکھتی ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں پر مظالم کی حوصلہ افزائی سے مودی نے امن کیلئے سنگین عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم دو وجوہات کی بناءپر بھارت کے مسلمانوں کو سیاسی اور سماجی سطح سے مٹانا چاہتے ہیں، ان میں سے مسلمانوں کی تاریخ کو پامال کرنا اور ان کے مذہب کی آزادی، سرکاری امور میں شمولیت اور اقلیت کے طور پر تحفظ جیسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی ختم کرنے کے ایک سال مکمل کرنے پر رام مندر کی بنیاد رکھی، مقبوضہ کشمیر کی اکثریتی مسلمان آبادی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ وفاقی  وزیر  نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار دگرگوں ہے، انہیں امتیازی سلوک، حملوں، پولیس کے عدم تحفظ اور شہریت ختم ہونے کا خوف لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر میں سخت لاک ڈاﺅن ہے اور اس کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ کٹ چکا ہے، وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، متنازعہ ڈومیسائل اور پراپرٹی قوانین نافذ کئے گئے ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور ماورائے عدالت قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دسمبر 2019ءمیں امتیازی شہریت بل کا اعلان کیا گیا، نیشنل رجسٹر آف سٹیزن شپ بل (این آر سی) پر عملدرآمد سے لاکھوں مسلمانوں نے عبوری کیمپوں میں بھیجے جانے کے خوف سے اپنی شہریت ثابت کی، آسام میں این آر سی نافذ ہونے کے بعد تمام مسلمانوں نے اپنی اور اپنے خاندان کی شہریت سے متعلق ثبوت پیش کیا کہ انہوں نے 1971ءسے پہلے بھارت ہجرت کی تاہم بھارت میں پیدا ہونے والے مسلمانوں کو وہاں رہنے کے حق کے حصول کیلئے اپنے بزرگوں کی قانونی دستاویزات پیش کرنا ضروری ہے جو کہ زیادہ تر مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔