کوئٹہ 08 اکتوبر (اے پی پی): چیف سیکرٹری بلوچستان نے محکمہ صحت بلوچستان میں کرپشن کے خاتمے اور اصلاحات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی کاغذات میں خریداری اور زمین پر کچھ نہیں ہوتا آڈٹ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم فیل ہوچکا، محکمہ صحت میں خریداری کا عمل شفاف بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے_ان خیالات کا اظہار چیف سیکرٹری بلوچستان فضیل اصغر اور ڈی جی نیب نے نیب بلوچستان کے زیر اہتمام محکمہ صحت میں کرپشن کے تدارک اور اصلاحات کے موضوع پر ورکشاپ کے دوران کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان فرمان اللہ نے کہا کہ ماضی میں محکمہ بی اینڈ آر اور کسٹمز کے بارے میں کرپشن کا تصور پایا جاتا تھا تاہم اب محکمہ صحت اور تعلیم میں سب سے زیادہ کرپشن کی شکایات ہیں، کرپشن کے ناسور کے باعث سسٹم کولیپس کر چکا ہے عام آدمی مشکلات کا شکار ہے،کاغذات میں خریداری اور زمین پر کچھ نہیں ہوتا آڈٹ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم فیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت میں خریداری کا عمل شفاف بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہےمحکمہ صحت میں بیپرا رولز کی صریحا خلاف ورزی کرتے ہوئے جعلی خریداری کی جاتی ہے ایسے کیسز میں بیڈا ایکٹ کے تحت کاررائی کرتے ہوئے مقدمات فوری طور پر نیب انٹی کرپشن کو دئیے جائیں۔ بلوچستان میں محدود وسائل ہیں یہ بھی کرپشن کی نظر ہوجائیں تو غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا، بلوچستان کے غریب افراد کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان فضیل اصغر نے نیب کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا ہونگے، صحت کے مقدس شعبے میں کرپشن ظلم کے مترادف ہےانہوں نے اس ضمن میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے قیام سے محکمہ صحت سے کرپشن کا خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔سیمینار میں سیکرٹری خزانہ، ایڈیشنل سیکرٹری صحت، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، وائس چانسلر بولان یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل سائنسز، ڈی جی ہیلتھ سروس، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس سول ہسپتال، و دیگر نے شرکت کی ۔











