پاکستان-مراکش کھاد شراکت داری قومی غذائی تحفظ کی کلید ہے، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

2

اسلام آباد، 6 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے مراکش کے جرف لاسفر میں واقع پاکستان مراک فاسفور ایس اے  پلانٹ کا دورہ کیا، جو مراکش کے او سی پی گروپ اور پاکستان کی فوجی فاؤنڈیشن کے درمیان ایک اسٹریٹجک مشترکہ منصوبہ ہے۔ یہ جدید ترین سہولت پاکستان کی کھاد صنعت کے لیے فاسفیٹ پر مبنی خام مال کی قابل اعتماد فراہمی یقینی کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ دورے کے دوران وفاقی وزیر کو پلانٹ کی کارروائیوں پر جامع بریفنگ دی گئی اور انہوں نے سہولت کے اہم حصوں کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور افرادی قوت سے ملاقات میں ان کی پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور اعلیٰ آپریشنل معیار برقرار رکھنے کے عزم کو سراہا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان مراک فاسفور منصوبہ پاکستان کی غذائی سلامتی کے لیے انتہائی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ سہولت پاکستان کے کھاد کے شعبے کے لیے اہم خام مال کی قابل اعتماد اور بلا تعطل فراہمی یقینی بناتی ہے، جس سے ملک کو عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے PMP کو محض ایک صنعتی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان اور مراکش کے درمیان دیرپا دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی علامت قرار دیا جس نے باہمی معاشی قدر پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنایا اور علاقائی و عالمی غذائی سلامتی میں بامعنی کردار ادا کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے زراعت، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مراکش کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پلانٹ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ خام مال کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور مسلسل پیداوار کی حمایت کے لیے آپریشنل عمدگی برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی کھاد کی ضروریات کے مطابق پیداواری صلاحیت بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ کسی بھی اضافی پیداوار سے بین الاقوامی تجارت اور معاشی تعاون کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں، جبکہ منصوبے کی مجموعی کارکردگی بہتر ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ فاسفیٹ اور کھاد کے شعبے میں پاکستان-مراکش شراکت داری دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرے گی اور زرعی ترقی، صنعتی نمو اور پائیدار غذائی سلامتی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھائے گی۔