ڈی پی او  اوکاڑہ کا  کھلی کچہری کے شرکاء سے خطاب

334

اوکاڑہ،23 اکتوبر ( اےپی پی): مسجد خدا کا گھر ہے یہاں پر جو کہا جائے گا وہ سچ ہو گا، جن کھلی کچہریوں  میں پولیس کی تعریف ہوتی ہے وہ عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے نتیجہ خیز اور ثمر آور نہیں ہوتیں۔ان خیالات کا اظہارڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فیصل شہزاد نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویژن اور آئی جی پنجاب انعام غنی کی ہدایات کے تحت انصاف  عوام کی دہلیز پر مہیا کرنے کے لئے نور شاہ روڈ گوگیرہ پر واقع مسجد جامعہ رحمانیہ چشتیہ میں منعقدہ کھلی کچہری کے شرکاء سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ اس کھلی کچہری میں جو درخواستیں پیش ہوں گی ان پر ایک میکنزم اور سسٹم کے تحت قانونی کارروائی کے حوالے سے وقت کا تعین کیا جائے گا جس کے بعد ان درخواستوں پر ہونے والی قانونی کارروائی کا مکمل فالو اپ لیا جائے گا اور یہ فالو اپ میں خود لوں گا۔ڈی پی او نے واضح کیا کہ انصاف فراہم کرنے میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہوتا ہے،تاخیری حربے گناہگار کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہگار بنا دیتے ہیں ایسا رویہ اوکاڑہ پولیس میں ناقابل برداشت ہو گا، جس پولیس آفیسر نے قابل دست اندازی پولیس جرم پر قانونی کارروائی نہ کی تو اس کے خلاف سخت محکمانہ احتساب ہو گا،ڈی پی او  فیصل شہزاد نے کہا کہ میرے دفتر سمیت ضلع بھر کے تمام پولیس دفاتر اور تھانوں میں اوپن ڈور پالیسی چل رہی ہے جو شخص جب چاہے میرے سمیت ہر پولیس آفیسر سے مل کر اپنا مسئلہ بیان کر سکتا ہے اس کے مسئلے پر قانون کے مطابق ہر صورت کارروائی ہو گی۔ ڈی پی او نے کھلی کچہری میں پیش ہونے والے دیہاتیوں کی درخواستوں پر موقع پر احکامات جاری کئے۔ ڈی پی او نے نماز جمعہ بھی اسی مسجد میں ادا کی۔