پشاور،10نومبر(اے پی پی): گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے مالی نظم وضبط برقرار رکھنے، تنخواہوں اور پنشن کی مد میں سیونگ سمیت ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ کی اعلی تعلیمی جامعات کو معیاری تعلیمی درسگاہیں بنانے کیلئے مالی نظم وضبط برقرار رکھناانتہائی ضروری ہے۔ یونیورسٹیوں میں طلباء اور فیکلٹی اراکین کیلئے ڈریس کوڈلازمی قراردینے کامقصد محض طلباء پرسوشل چیک رکھنے سمیت غریب والدین پرنت نئے لباس کی مد میں اخراجات کابوجھ کم کرناہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کے روز ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے 16ویں سینٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ گورنرنے اس موقع پر ہزارہ یونیورسٹی میں ایکسٹرنل امتحانی بورڈکے قیام کی تجویز کوایک اچھااور قابل تعریف اقدام قراردیا اور کہاکہ بورڈ میں پیپرچیکنگ کیلئے مستقل بنیادوں پرممبرز کی تعیناتی نہ کی جائے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ امتحانی پرچہ جات ایک یونیورسٹی سے باہرچیک کرانے کامقصد پیپر چیکنگ نظام میں شفافیت لانا مقصودہے۔ سینٹ اجلاس میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرجمیل احمدنے یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی،مستقبل کے منصوبوں جن میں یونیورسٹی میں ٹورازم حب کا قیام، کیمپس منیجمنٹ سسٹم، سنٹرلائزڈ ریسرچ لیب اور سالانہ بجٹ پرتفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ہزارہ یونیورسٹی میں فیزنٹری کیلئے اراضی کے حصول کیلئے یونیورسٹی کے گردو نواح میں مناسب مطلوبہ جگہ خریدنے کی بھی منظوری دی گئی جبکہ یونیورسٹی کے سالانہ بجٹ 2018-19 اور2019-20 کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پرنسپل سیکرٹری برائے گورنرمحمدادریس،ایڈیشنل سیکرٹری فنانس سفیراحمد سمیت سینٹ کے دیگراراکین نے شرکت کی۔











