پشاور،10 نومبر(اے پی پی): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے پولیس اہلکاروں کو جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ تفتیش کے گُر بھی سکھائے جا رہے ہیں۔
یہ بات انہوں نے آج سکول آف انوسٹی گیشن پشاور میں ضم شدہ اضلاع کے زیر تربیت کورس کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ آئی جی پی نے کہا کہ پولیس میں شعبہ تفتیش کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور پولیس کو تفتیش کا معیار بہتر بنانے کے لیے بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ آئی جی پی نے کہا کہ ٹریننگ سیکھنے سکھانے کا عمل ہے اور انسان کی ٹریننگ کا سلسلہ ساری عمر چلتا رہتا ہے، اور زندگی میں جو تجربات آتے ہیں وہ بھی ہماری روز مرہ کی زندگی کی ٹریننگ کا اہم حصہ بن جاتے ہیں۔
آئی جی پی ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کہا کہ آجکل کے جدید سائنسی دور میں فورنزک انوسٹی گیشن کی اہمیت مسلمہ بن چکی ہے اس میں غفلت کا عنصر شامل نہیں ہوتا اور عدالت اس کو تسلیم بھی کرتی ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع ملک، صوبے اور وہاں کے عوام کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
کورس کے دوران ضم شدہ اضلاع کے جوانوں کو ایف ائی آر کے اندراج، روزنامچہ لکھنے، کرائم سین سے شواہد اکٹھا کرنے، کیس کی تفتیش کرنے اور عدالتوں میں پیش کرنے کی تربیت دی جارہی ہے۔ اور یہ ضم شدہ اضلاع کا پہلا پولیس دستہ ہے جو سکول آف انوسٹی گیشن میں کورس میں شریک ہے۔
آئی جی پی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے اے ایس آئیز اور سب انسپکٹروں کو بھی تفتیش سے متعلق سکول آف انوسٹی گیشن میں تربیت دی جائیگی۔ آئی جی پی نے زیر تربیت جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کورس مکمل ہونے پر اُن میں اپنے ہاتھوں سے سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنے کا اعلان بھی کیا۔











