گوادر، 23 نومبر ( اےپی پی): سینیٹ کے ڈپٹی چیرمین سلیم مانڈوی والا ایک روزہ دورے پر گوادر پہنچ گئے۔گوادر ایئرپورٹ پہنچنے پر بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر کہدہ بابر بلوچ، پی پی پی کے صوبائی رہنما اعجاز بلوچ اور دیگر سرکاری افسران نے ان کا استقبال کیا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے گوادر پورٹ کا دورہ کیا اور برتھنگ ایریا سمیت پورٹ کے مختلف مقامات کا معائینہ کیا، اس موقع پر چائینہ بزنس سینٹر میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے چائینیز اور دیگر کے ساتھ نمائشی ٹیبل ٹینس کھیلا۔ گوادر پورٹ پر گوادر پورٹ اتھارٹی اور ادارہ ترقیات گوادر کی جانب سے انھیں سی پیک، فری زون، گوادر ماسٹر پلان اور ایسٹ بے یکسپریس وے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ گوادر میں فلائیٹ کی کمی کا مسلہ جلد حل ہونے جارہا ہے، اگلے ماہ تک گوادر میں اضافی فلائیٹ کا شیڈول طے ہوگا جس سے لوگوں کو ملک کے دیگر شہروں میں آنے اور جانے کیلیئے سفری سہولیات میسر آئے گا. انھوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کو مستقل بنیادوں پر فعال بنانے کیلیئے روزانہ ایک شپ کا گوادر پورٹ میں لنگر انداز ہونا ضروری ہے جس کو یقینی بنانے کیلیئے میں اور سینیٹر کہدہ بابر بلوچ سینیٹ میں اپنا کردار ادا کریں گے. انھوں نے کہا کہ وزارت جہازرانی و بندرگاہ کو چاہیئے کہ گوادر بندرگاہ کو فعال بنانے کیلیئے کراچی کی بندرگاہ میں کھاد، گندم وغیرہ کی ان لوڈنگ پر پابندی عائد کرکے یہ اشیاء گوادر بندرگاہ میں اتارنے کی نوٹفکیشن جاری کردے تاکہ گوادر پورٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگ بھی برسر روزگار ہوسکیں۔ انھوں نے گوادر پورٹ اور جی ڈی اے کے افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ منصوبوں کیلیئے صرف ٹینڈر جاری کرنا مسلے کا حل نہیں ہے بلکہ بہترین کنسلٹینٹس کو تلاش کرکے کام ان کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہترین انداز میں منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔











