لاہور،21نومبر (اے پی پی): پاکستان تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مسجد رحمت العالمین سے ملحقہ مدرسہ ابوذر غفاری میں سپرد خاک کر دیا گیا،نماز جنازہ علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادہ اور نو منتخب امیر حافظ سعد حسین رضوی نے پڑھائی۔ نماز جنازہ مینار پاکستان گراﺅنڈ (گریٹر اقبال پارک)میں ادا کی گئی جس میں ملک بھر سے لاکھوں کی تعداد میں تحریک کے کارکنان اورعقیدت مندوں نے شرکت کی،نماز جنازہ میں چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان سمیت دیگر مذہبی و سیاسی شخصیات اورمختلف درگاہوں کے گدی نشینوں نے شرکت کی، نماز جنازہ کے موقع پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے جبکہ تحریک لبیک کے رضا کاربھی فرائض سر انجام دیتے رہے۔ کمشنر لاہور ڈویژن مرکزی کنٹرول روم میں بیٹھ کر سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کی خود نگرانی کرتے رہے۔
پاکستان تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کا جسد خاکی بذریعہ ایمبولینس نماز جنازہ کے مقام مینار پاکستان لے جایا گیا، ہزاروں کی تعداد میں کارکنان اورعقیدت مند ایمبولینس کے ساتھ پیدل چلتے رہے،جنازہ سے قبل ہی لوگوں کی بڑی تعداد مینار پاکستان گراؤ نڈ پہنچ گئی، گریٹر اقبال پارک اور اس کے اطراف کی سڑکیں بھر گئیں، جنازے کے راستے پر بھی لوگوں کی بڑی تعداد صبح سے موجود رہی، تحریک لبیک کے کارکنان میت کے ہمراہ جنازہ گاہ کی جانب رواں دواں رہے اور اطراف کی سڑکوں پر بھی لوگوں کا جم غفیر موجود رہا۔
ایمبولینس کے ہمراہ چلنے والے شرکا لبیک یارسول اللہ، تاجدار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے اور درود پاک پڑھتے رہے۔ نماز جنازہ میں لاہور سمیت صوبہ بھر سے قافلے مینار پاکستان پہنچتے رہے جبکہ بہت بڑی تعداد نماز جناز ہ کیلئے طے کئے گئے وقت سے پہلے ہی مینار پاکستان گراﺅنڈ میں پہنچ گئے جس سے گراﺅنڈ مکمل طور پر بھر گیا جس کے بعد لوگ اطراف کی شاہراہوںپر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ انتہائی رش کی وجہ سے میت لانے والی ایمبولینس کو نماز جنازہ کے مقام مینار پاکستان گراﺅنڈ تک نہ پہنچایا جاسکا اور اسے آزادی فلائی اوور کے اوپر ہی کھڑا کر دیا گیا اور نمازجنازہ پڑھائی گئی۔
نماز جنازہ سے قبل شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک لبیک کے نو منتخب امیر حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ ہم علامہ خادم حسین رضوی کی نصیحت پر عمل کریں گے،گستاخی رسولﷺ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اور مرحوم کا مشن جاری رکھیں گے۔
نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد خادم حسین رضوی کی میت کو واپس مسجد رحمت اللعالمین سے ملحقہ مدرسہ ابوذر غفاری لایا گیا اور اہل خانہ،قریبی عزیز واقارب اور جماعت کے مرکزی رہنماﺅں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیاگیا۔مرحوم کی رسم کل بروز اتوار صبح 10بجے داتا دربار میں ادا کی جائے گی۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق علامہ خادم حسین رضوی کا نماز جنازہ لاہور کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے انتہائی جامع اور موثر انتظامات کئے گئے جس کی وجہ سے کسی بھی جگہ کوئی بد نظمی دیکھنے میں نہیں آئی۔اس موقع پر لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہی، شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل سخت کیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ایک ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں نے فرائض سر انجام دیئے، جن میں 3 ایس پیز، 14 ڈی ایس پیز، 31 ایس ایچ اوز، 116 اَپر سب آرڈینیٹس شامل تھے۔ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ڈولفن سکواڈ، پولیس ریسپانس یونٹ، ایلیٹ فورس، اے آر ایف، ایس پی یو اور سادہ لباس میں ملبوس جوانوں نے بھی ڈیوٹی دی، شہر بھر میں مختلف مقامات پر گذشتہ رات بھرپور سرچ اینڈ سویپ آپریشنز بھی کیا گیا، ڈولفن سکواڈ اور پیرو ٹیمیں جنازے کے روٹ، گریٹر اقبال پارک اور گرد و نواح میں موثر پٹرولنگ کرتے رہے، بلند عمارتوں پر تعینات سنائپرز نے اطراف کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی۔











