وزیراعظم زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے 12 ارب 54 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے: وزیر زراعت پنجاب 

186

ملتان، 23 نومبر (اے پی پی ): وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا ہے کہ اس سال  صوبہ میں1کروڑ62لاکھ ایکڑ رقبہ پر گندم کی کاشت اور 2کروڑ میٹرک ٹن پیداوار حاصل کرنے کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت قومی سطح پر گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے 12 ارب 54 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔

 ان خیالات کااظہار انہوں نے کبیر والا میں محکمہ زراعت اور اینگرو فرٹیلائزر کے اشتراک سے زیادہ گندم اگاؤ مہم کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب میں شریک کاشتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ  صوبہ پنجاب میں موجودہ مالی سال کے دوران 80 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے کاشتکاروں کو منظور شدہ اقسام کے بیج اور دیگر زرعی مداخل سبسڈی پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ملکی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے گندم کی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے ، حکومت نے کاشتکاروں کے مالی مفاد کو مد نظررکھتے ہوئے اس سال گندم کی امدادی قیمت بڑھا کر1650روپے فی من مقرر کردی ہے ،مختلف فصلات کی لاگت کاشت میں کمی کیلئے کھادوں پر اربوں روپے کی سبسڈی بھی فراہم کی جارہی ہے۔

 وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہدھان کے وڈھوں میں گندم کی کاشت کیلئے500 رائس شریڈر اور500 ہیپی سیڈرز کی خرید پر 80فیصد سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔اس مشینری کے استعمال سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی ہوگی بلکہ زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ ہوگا۔

وزیر زراعت نے کہا کہ مارکیٹوں میں معیاری زرعی مداخل کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے متعلقہ شعبہ جات کو احکامات جاری کردئیے گئے ہیں۔مارکیٹوں کی سخت نگرانی کے نتیجہ میں کھادوں اور زرعی ادویات میں ملاوٹ میں مکروہ دھندھے میں ملوث عناصر کیخلاف سخت قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔

اس موقع پرڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر محمد انجم علی نے کہا کہ محکمہ زراعت توسیع کی فیلڈ ٹیمیں کاشتکاروں کو جدید زرعی علوم کی فراہمی بارے مصروف عمل ہیں۔گندم کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کاشتکاروں تک پہنچانے کیلئے فارمر گیدرنگز ،کانر میٹنگز،لٹریچر/بروشرز کی تقسیم سمیت پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع ابلاغ کا موثر استعمال کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر ہیڈ آر اینڈ ڈی اینگرو فرٹیلائزرمحمد آصف علی نے کہا کہ فصلوں کی پیداوار میں کھادوں کا کردار40فیصد ہے اس لئے ضروری ہے کہ اچھی پیداوار کے حصول کیلئے متوازن ومتناسب کھادوں کا ستعمال کیا جائے۔عصر حاضر میں کھادوں سے اچھے نتائج کے حصول کیلئے ،صحیح کھاد،مقدار،وقت اورطریقہ استعمال اپنانا چاہیے۔

 زرعی ماہرین نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گندم کی کاشت ترجیحاً 30نومبر تک مکمل کریں اور محکمہ کی سفارشات کے مطابق تمام کاشتی امور سرانجام دیں۔گندم کی منظور شدہ اقسام کا اچھی شرح اگاؤ والا بیج استعمال کریں۔ کاشت سے قبل گندم کے بیج کومناسب پھپھوند کش زہر لگائیں تاکہ فصل کو کنگی سمیت دیگر بیماریوں سے بچایا جاسکے۔

سیمینار میں ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر محمد انجم علی،اسسٹنٹ کمشنر غلام مصطفیٰ،اے ایس پی نوشیروان،ڈاکٹر جاوید اختر،ہیڈ آر اینڈ ڈی اینگرو فرٹیلائزرمحمد آصف علی، عامر علی،شہزاد صابر،نوید عصمت کاہلوں،رانا مقصودسمیت بھی موجود تھے۔