ہم پرانی کے سی آر کے اُوپر ٹرین چلائیں گے : وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد

139

لاہور ، 14 نومبر  ( اےپی پی):پاکستان ریلوے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے تحت 19نومبر سے کراچی سرکلر ریلوے چلانے جا رہا ہے۔ ہم پرانی کے سی آر کے اُوپر ٹرین چلائیں گے ۔ ابھی سندھ حکومت نے آگے کام کرنا ہے کیونکہ 14کلو میٹر ٹریک کلیئر کر لیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ریلوے ہیڈ کوارٹرز آفس لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ 15کوچز پر مشتمل سرکلر ریلوے کی یہ ٹرین براستہ لانڈھی ،اورنگی چلے گی۔ یہ ساری کوچز ریلوے اپنی کیرج فیکٹری میں تیار کی ہے۔کے سی آر کے ہم نے 3مرحلے کئے ہیں ۔ تیسرے مرحلے میں بالکل نئی ٹرین چلائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پنشن کے واجبات کی ادائیگی کے لیے فنانس منسٹری اور وزیر اعظم پاکستان سے فنڈز کی منظوری ہوگئی ہے اس پر ہم فنانس منسٹری اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے مشکور ہیں۔وزیر ریلوے نے کہا کہ گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک کے ملازمین کی پنشن کے واجبات کلیئر کریں گے جس کے لیے ہم وزیر اعظم پاکستان کو ریلوے ہیڈکوارٹرزلاہور آنے کی دعوت دیں گے کہ وہ آئیں اور گریڈ ایک سے گریڈ چار کے ملازمین کو پنشن کی ادائیگی کے چیک کا اجراءکریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے تمام ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی آمدن میں اضافہ کریں۔ سیاسی گفتگوکرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ آج ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بہت درست بیان دیاہے اور میں اس پر بہت پہلے کہہ چکاہوں کے ہندوستان اندر سے پاکستان کو تباہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کو سرحدوں پر نقصان نہیں پہنچا سکتاافواجِ پاکستان وہ عظیم فوج ہے جو ایک گولے کا جواب دوگولوں سے دیتی ہے۔کل جو سرحدوں پر ہوا وہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انڈیا پاکستان کے اندرابھی تک بدامنی پھیلانے اور دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ راءنے جس طرح بلوچستان اور افغانستان میں مختلف گروہوں کو اکٹھاکیا ہے پاکستان کے اندر دہشت گردی کا بڑا واقعہ کرسکتا ہے میں یہ صرف عقلمندوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں۔ گلگت بلتستان کے الیکشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ وہاں کے لوگ الیکشن میں جو فیصلہ کریں وہ پاکستان کے سی پیک کی ریڑھ کی ہڈی ہوگا کیونکہ سی پیک کا ہب گلگت بلتستان ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کے تمام کاغذات پورے کردیئے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ایم ایل ون کا افتتاح چین کی کوئی اعلیٰ شخصیت کرے ۔ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ 20 دسمبر تک اس کا ٹینڈر ہوجائے گا۔ پاکستان ریلوے نے ایم ایل ون کے حوالے سے ایک ایک انچ کی فزیبلیٹی رپورٹ بنا لی ہے اس میں سارے کراسنگ ختم ہوجائیں گے۔ ایم ایل ون پاکستان ریلوے کی زندگی ہے اس کام کو مکمل کرنے میں مجھے سولہ سال لگے ہیں۔