خصوصی افراد کے بارے میں معاشرے میں پائے جانے والے منفی رویوں کو دور کرنے کیلئے میڈیا کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے؛صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی 

124

اسلام آباد،28دسمبر  (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی  نے کہا ہے کہ خصوصی افراد کے حقوق اور ان کے بارے میں معاشرے میں پائے جانے والے منفی رویوں کو دور کرنے کیلئے میڈیا کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے،  حکومت خصوصی افراد کو معاشرے کا فعال رکن بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، خصوصی افراد کو پرائمری سطح سے لیکر یونیورسٹی کی سطح تک مفت تعلیم دیے جانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے، حکومت 26 ہزار سے زائد خصوصی افراد کو صحت سہولت کارڈ تقسیم کر چکی ہے، احساس پروگرام کے تحت 20 لاکھ خصوصی افراد کو امداد دی جائے گی۔حکومت نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین کے ساتھ پاکستان میں معاون ٹیکنالوجی برائے خصوصی افراد کے فروغ اور تیاری کیلئے یاداشت پر دستخط کئے ہیں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوانِ صدر میں افرادباہم معذوری کے حوالے سے سینئر صحافیوں کے ساتھ فکری نشست میں کیا۔صدر عارف علوی نے کہا کہ خصوصی افراد سےمتعلق درست اعدادوشمارکی کمی ہے ۔اس حوالے سے احساس پروگرام کے تحت کیا جانے والا سروے جون 2021 ء میں مکمل ہو جائے گا۔ مردم شماری میں صرف 2 فیصد افراد خصوصی افراد کے طور پر گنے گئے مگر خصوصی افراد پاکستان کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد ہیں اور ان کیلئےسہولیات کی کمی پائی جاتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کا انتہائی کم تعداد میں اندراج ہوتا ہے، انہیں نادرا کے ساتھ رجسٹریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کو سادہ اور آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں پائے جانے والے منفی رویوں کی حوصلہ شکنی کیلئے میڈیا اپنا کردار کرسکتا ہے۔ خصوصی افراد کو نہ صرف نقل و حرکت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ انہیں معاشرے میں تعصب اور منفی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں ان کے حوالے سے رحم پر مبنی رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جسمانی طور پر معذور اور سماعت یا بصارت سے محروم افراد کو عام سکولوں میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ خصوصی افراد کو اسپیشل اسکولوں میں تعلیم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ مرکزی دھارے سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ ان بچوں کوعام سکولوں میں تعلیم دینے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

صدرمملکت نے کہا کہ خصوصی افراد کو پرائمری سطح سے لیکر یونیورسٹی کی سطح تک مفت تعلیم دیے جانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ خصوصی افراد ملکی ترقی میں نمایا ں کردار ادا کررہے ہیں ۔ خصوصی افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں صدارتی ایوارڈز بھی دیے گئے۔  ان کے روزگا ر کیلئے ان کو نیوٹک کے ذریعے پیشہ ورانہ اور فنی تعلیم دینے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔

 صدر مملکت نےمیڈیا پر زور دیا کہ وہ لوگوں میں شعور پیدا کرے کہ  خصوصی افراد کی معذوری ظاہری نہیں ہوتی اور بہت سے ایسے افراد جو نارمل لگتے ہیں وہ بھی معذوری کا شکار ہوتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے خصوصی افراد کیلئے خصوصی اسکیم متعارف کرائی ہیں مگر ان کے متعلق آگاہی کی کمی ہے۔ کراچی کی کاروباری برادری نے ہمیں خصوصی افراد کو ملازمتیں دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خصوصی افراد کو ان کی صلاحیتوں کےمطابق ملازمتیں دی جائیں اور انہیں مارکیٹ کی ضروریا ت کے مطابق تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

بریفنگ میں صحافیوں کو بتا یا گیا کہ حکومت کے نئے قوانین کے مطابق نئے منصوبوں کیلئے پی سی ون کی منظوری خصوصی افراد کیلئے اقدامات اور قابل رسائی انفراسٹرکچر سے مشروط کر دی گئی ہے۔خصوصی افراد عام طور پر معاشرےمیں کم نظر نہیں آتے اور گھروں تک محدود رکھا جاتا ہے جبکہ وہ پاکستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں۔ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹرشبلی فراز نے کہا کہ مخصوص افراد سے متعلق موضوع پر عام طور پر بات نہیں کی جاتی ، میڈیا خصوصی افراد کیلئے موزوں ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزارت اطلاعات اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ خصوصی افراد سے متعلق قوانین کا جائزہ لینے اور ان کی فلاح کیلئے ان میں موجود قانونی سقم دور کرنے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کہ اداروں کوخصوصی افراد کی فلاح اور بحالی کیلئے ہدایات بھی جاری کرے گی۔

سینیئر صحافیوں  نے تجاویز دیں کہ ڈراموں، اسٹیج ڈراموں ، فلمز، اور میڈیا پر مزاح میں بھی خصوصی افراد کا مذاق نہ اڑانے دیا جائے۔ سوشل میڈیا کے علاوہ اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے بھی آگاہی پیدا کی جاسکتی ہے۔