سکھر۔21 دسمبر ( اے پی پی ) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے سندھ اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو اعلیٰ اور جدید تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کےلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، اندرون سندھ سات کیمپس کا قیام اس کی جانب پہلا قدم ہے ،اندرون سندھ میں ہائیر ایجوکیشن کا ریشو 2 فیصد ہونا قابل تشویش ہے، جلدیونیورسٹی گلگت بلتستان میں بھی کام کاآغاز کرے گی۔ یونیورسٹی کسی حکومت پر بوجھ نہیں، وہ اپنے وسائل سے کام کررہی ہے اور اس وقت اپنے منصوبوں پر پونے دو ارب روپے خرچ کررہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر ضلع کی تحصیل روہڑی میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کیمپس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اندرون سندھ سکھر سمیت یونیورسٹی کے سات کیمپس قائم کیے جارہے ہیں مورومیں ہم اسٹیٹ آف آرٹس ،کشمور میں ماڈل سٹی ایجوکیشن شروع کر رہے ہیں جبکہ لاڑکانہ میں ہمارا کیمپس جلد شروع ہورہاہے، سندھ میں صوبائی حکومت تعلیم کے لیے بھرپور کام کررہی ہے لیکن ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت بھرپور تعاون کررہی ہے۔صدی میں زندہ رہنے کے لیے تعلیم ضروری ہے ۔ہم بین الاقوامی معیار تعلیم مقاصد میں شامل ہے۔ہم اپنے کیمپس میں وہ تمام سہولیات فراہم کریں گے جو کسی بھی بین الاقوامی یونیورسٹی میں طلباءکو مہیا ہوتی ہیں۔











