وزیر اعظم کا   احساس پروگرام پاکستانی عوام کیلئے مثبت تبدیلی  ، اقدام غربت کو کم کرنے کیلئے گلوبل ماڈل بننے کی بنیاد رکھ چکا ہے :سر مائیکل باربر  کی  احساس پروگرام سے متعلق رپورٹ

90

اسلام آباد,10دسمبر  (اے پی پی):عالمی سطح پر معروف فرم ڈیلیوری ایسو سی ایٹس کے بانی سرمائیکل باربر نے  وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی موجودگی میں  احساس پروگرام سے متعلق اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا تخفیف غربت کا اقدام، احساس پروگرام پاکستان کے عوام کیلئے مثبت تبدیلی لارہا ہے اور غربت کو کم کرنے کیلئے گلوبل ماڈل بننے کی بنیاد رکھ چکا ہے ،احساس سرپرستی کی سیاست سے کارکردگی کی سیاست کی جانب منتقلی کے عنوان سے اس رپورٹ میں احساس پروگرام کو مستحق ، غریب اور ناداروں کے لئے بہترین پروگرام قرار دیا گیا ہے ،سرپرستی کی سیاست سے کارکردگی کی سیاست کی جانب منتقلی حکومت کے فلیگ شپ پروگرام احساس کے پہلے سال کا تجزیہ پیش کرتی ہے ۔ اس پروگرام کو شفاف، کثیر الجہتی اور نتائج  پر مبنی بنانے کیلئے شروع کئے گئے ابتدائی اقدامات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے، یہ آج کے دور کی کچھ بڑی کامیابیوں پر روشنی ڈالتی ہے ۔ جمعرات کو وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر پی آئی ڈی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہیں تھیں ۔ عالمی سطح پر معروف فرم ڈیلیوری ایسو سی ایٹس کے بانی سرمائیکل باربر نے ورچوئلی طور پر خطاب کیا ۔ سرمائیکل باربر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ قابل تعریف اقدامات میں احساس کفالت شامل ہے،جو لاکھوں غریب ترین خواتین کو غیر مشروط مالی معاونت فراہم کرتا ہے، احساس انڈرگریجویٹ اسکالر شپس جس کے تحت ایک سال میں پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء کو50,000سے زائد سکالرشپس دیئے جاتے ہیں اور احساس نشوونما جو صحت اور غذائیت کی فراہمی کا مشروط مالی معاونت پروگرام ہے ۔ مزید براں ، تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن اور اس کے عملدرآمدی اداروں میں گورننس اصلاحات کا ایک وسیع عمل شروع کیا گیا ہے ۔ احساس گورننس اور دیانت داری کی پالیسی کو کابینہ نے 12نومبر 2019کو منظور کیا تھا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فلاح و بہبود میں شامل وہ ادارے ان کی ضروریات کیلئے موثر اور ذمہ دار ہیں جن کو ان کی خدمات کی ہدایات دی گئی ہے ۔ نیز، گورننس رصدگاہ اور ملٹی اسٹیک ہولڈرز مانیٹرنگ بھی متعارف کروائی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ احتساب اور اثرات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے احساس نے غربت سے نمٹنے کے طریقے کے بارے میں عالمی سطح پر نمایاں نمونہ بننے کی بنیاد رکھی ہے ۔ مجھے اپنے پورے کیریئر میں یکے بعد دیگرے پاکستانی حکومتوں کیساتھ مل کر کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کے احساس موجودہ انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی مضبوط قیادت میں احساس ٹیم نے صرف ایک سال میں بڑی ترقی کی ہے ۔ اصلاحات اور اسٹرکچرل تبدیلیوں نے ٹیم کے ذریعہ ابتدائی طور پر 12ملین گھرانوںکو کویڈ19کے دوران احساس ایمرجنسی کیش کی تیزی سے فراہمی کی ۔ آئندہ مہینوں اور سالوں میں ان کا کام اہم ثابت ہوگا ۔رپورٹ میں ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پروگرام کے استعمال کو بھی سراہا گیا ہے جو نگرانی کے معمولات اور اپنی کارکردگی کے دوران مضبوط گورننس کے نظم و ضبط کو یقینی بنانے کیلئے تیار کیا گیا ہے ۔ اس میں ایک نیا ڈیٹا ڈیش بورڈ بھی شامل ہے ، جو احساس ویب سائیٹ  پر کھلے عام ظاہر ہوتا ہے، جو پروگرام کے مختلف حصوں پر پیش رفت کو ٹریک کرنے کیلئے ٹریفک لاءٹ سسٹم کا استعمال کرتا ہے، ترقی کو اجاگر کرتا ہے اور شفافیت کو بہتر بناتا ہے ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے سرمائیکل باربر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں ان کی رپورٹ سے ہم  مزید استفادہ حاصل کریں گے اور اس سے مکمل راہنمائی حاصل کریں گے  ۔معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ یہ ڈیلیوری ایسو سی ایٹس کی ایک جامع اور بروقت پیش کی جانے والی رپورٹ ہے جوہمیں اپنے پہلے سال میں احساس پروگرام کی کامیابیوں پر غور کرنے میں مدد دیتی ہے اورمسلسل کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تجزیے سےہمیں پاکستان میں غربت کے خاتمے کے اپنے مقصد اور اپنے تمام مستحق افراد کو خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملے گی۔امید ہے کہ احساس دنیا کیلئے نمونہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ڈیلیوری ایسوسی ایٹس برطانیہ میں واقع ہے اور 40سے زائد ممالک کے حکومتی رہنمائوں کیساتھ مل کر کام کرتی ہے ۔ یہ حکومتوں ، عوامی اداروں اور دیگر تنظیموں کے ساتھ شراکتی بنیادوں پر کام کرتی ہے ۔ دنیا کے بیس مختلف ممالک میں جو چوبیس مختلف اقوام کی نمائندگی کرتی ہیں اور ان میں بیس مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں ۔