دہشت گردی، سمگلنگ، اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن، بدعنوانی میں ملوث عناصر کو مثالی سزائیں دلوائیں؛ آئی  جی    خیبر پختونخوا کی  اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت

80

پشاور،07  جنوری(اے پی پی):  انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ دہشت گردی، سمگلنگ، اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن، بدعنوانی میں ملوث عناصر کو مثالی سزائیں دلوائیں اور ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے فول پروف سیکیورٹی اقدامات اٹھائیں۔

یہ ہدایت انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقدہ ویڈیو لنک کانفرنس کے دوران تمام ریجنل پولیس افسروں کوجاری کیں۔کانفرنس میں پولیس کے خود احتسابی نظام کا اجمالی جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات عیاں ہوئی کہ خیبر پختونخوا پولیس کا خود احتسابی نظام انتہائی سخت اور موثر ہے اور اس نظام کے تحت اہلکاروں کو جتنی سزائیں ہوتی ہیں، اس کی شرح دوسرے محکموں  کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

بریفنگ کے دوران شرکاء کو بتایا گیا کہ پولیس کے خود احتسابی نظام کے ساتھ ساتھ اہلکاروں کے خلاف عوامی شکایات جدید مواصلاتی نظام کے مختلف ذرائع سے فوری اور بروقت موصول ہوتی ہیں اور خود کار ڈیٹا بیس اور کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن کی وجہ سے کوئی بھی شکایات بغیر قانونی کاروائی کے ختم نہیں کرائی جاسکتی۔

 بریفنگ کے دوران یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ اضلاع کی سطح پر ایس پی کمپلینٹ سیل کے قیام سے پولیس پر چیک اینڈ بیلنس مزید موثر ہوگیا ہے۔

آئی جی پی کو بتایا گیا کہ سال 2020 کے دوران 10747 پولیس اہلکاروں کو سزائیں دی گئیں جس میں  854 پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست بھی کیا گیا۔ سزا پانے والوں میں کانسٹیبل سے لیکر ڈی ایس پی رینک کے افسران شامل ہیں۔آئی جی پی کو مزید بتایا گیا کہ نان کسٹم پیڈاور مال مقدمہ گاڑیاں پولیس سے واپس لی گئی ہیں اور جو افسران استعمال کررہے تھے، ان کے خلاف متعلقہ اداروں کو قانونی کاروائی کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔

آئی جی پی کو بتایا گیا کہ پچھلے سال دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔ صوبے میں دہشت گردی، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاون کے جتنے بھی کیسز ہوئے وہ ایک دو کیسز کے علاوہ باقی تمام ٹریس ہو کر ان میں ملوث دہشت گردوں کو بے نقاب کرکے انہیں گرفتار کیا گیا۔ جبکہ بھتہ خوروں اور اغواء کاروں کے تقریباً تمام نیٹ ور ک توڑ کر ان کے تمام گینگز پکڑے گئے ہیں۔آئی جی پی کو بتایا گیا کہ پچھلے سال کے دوران 381 دہشت گرد پکڑے گئے۔

منشیات کی برآمدگی کے حوالے سے آئی جی پی کو بتایا گیا کہ پچھلے سال کے دوران22733.404 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی جس میں 20245.322 کلو گرام چرس، 1183.695 کلو گرام افیون، 1075.941 کلو گرام ہیرؤئن، 228.446 کلو گرام آئس جبکہ 40114بوتل اور 11134لیٹر شراب شامل ہیں۔

آئی جی پی کو مزید بتایاگیا کہ صوبے میں اقلیتوں کی119 عبادت گاہوں پر 360 پولیس نفری تعینات ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی تہواروں اور دیگر تقریبات کے مواقع پر اضافی نفری تعینات کی جاتی ہے۔جبکہ پولیس موبائل بھی باقاعدگی کے ساتھ سیکیورٹی ڈیوٹیاں چیک کرتی ہیں ا س کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً اقلیتوں کے رہنماؤں کے ساتھ رابطہ کرکے ان کے مشوروں وآراؤں سے سیکیورٹی اقدامات کو ختمی شکل دی جاتی ہے۔

آئی جی پی کو بتایا گیا کہ سال 2020 کے دوران 1485.24 ملین روپے مالیت کی سمگلنگ کا سامان برآمد کیا گیا۔انہیں بتایا گیا کہ سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق آرڈیننس کے تحت خیبر پختونخوا پولیس نے پچھلے سال کے دوران 126,06,942 مالیت کے 127,835 لیٹر غیر قانونی تیل برآمد کرکے اس میں ملوث 15 افراد کو پولیس حراست میں لیا گیا جبکہ اس سلسلے میں سمگلنگ کی روم تھام سے متعلق ایکٹ کے تحت 377  گاڑیاں پکڑکر اس میں ملوث 654 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مارکیٹ میں ان گاڑیوں کی قیمت 1,307,180,334روپے بنتی ہیں۔اس دوران 165,449,270 روپے مالیت کی سمگلنگ کا سامان برآمد کیا گیا جن میں گندم، آٹا، چینی، گھی، چاول اور فیس ماسک شامل ہیں۔ جبکہ سمگلنگ میں ملوث 96 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔

بریفنگ کے دوران آئی جی پی کے نوٹس میں یہ بات بھی لائی گئی کہ پچھلے سال کے دوران تفتیش کے شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی، تفتیش کو جدید اور سائنٹفک خطوط پر استوار کرنے کے بہترین عملی نتائج سامنے آئےجسکی وجہ سے ملزموں کو مختلف عدالتوں سے دی جانی والی سزاؤں میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔

آئی جی پی نے صوبے میں دہشت گردی، جرائم اور سمگلنگ کی روک تھام کے سلسلے میں خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔

آئی جی پی ثناء اللہ عباسی نے کانفرنس کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیس چیلنجنگ وقت میں سخت میں ڈیوٹیاں دے رہی ہے۔ پولیس پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام بہت ٹف اور موثر ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو پبلک سیفٹی کمیشن اور ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی  (External Accountability)کے قیام  کے لیے مراسلے ارسال کئے جاچکے ہیں جس میں ان اتھارٹیوں کے جلد از جلد قیام کی درخواست کی گئی ہے  جو کہ پولیس ایکٹ 2017 کا نامکمل ایجنڈا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیسنگ میں تفتیش کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھر پور اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ایک مراسلہ بھی ارسال کیا جاچکا ہے، جس میں کاسٹ آف انوسٹی گیشن کو بڑھانے کی استد عا کی گئی ہےجس کی منظوری سے تفتیش کا معیار مزید بہتر اور موثر ہو کر مقدمات کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کا ادارہ عوام کی خدمت کے لیے بنایا گیا ہے اور پولیس عوام کو ہر سطح پر جوابدہ ہے اور کہا کہ صوبے میں عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے پولیسنگ کو فروغ دیا جارہا ہے۔ آئی جی پی نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ پولیس کے خود احتسابی کے نظام کو مزید موثر اور مربوط بناکر لوگوں کی امنگوں کے مطابق اُن کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری ہے جس کا اثر باقی ماند ہ خیبر پختونخوا، ملک اور خطے پر پڑے گا۔

 آئی جی پی نے کہا کہ پولیس ریاست کا ایک ادارہ ہے جو (Objective Critic) کو ویلکم کرتی ہے اور اصلاح کرتی رہے گی۔ اسی طرح ففتھ جنریشن وارفیئر (Fifth Generation Warfare) بھی ایک چیلنج ہے جس سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس موقع پر ڈی آئی جی سپیشل برانچ، ڈی آئی جی کوہاٹ، ڈی پی او کرک اور اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ بھی موجود تھے جبکہ چیف کیپٹل سٹی پولیس پشاور اور باقی تمام ریجنل پولیس افسران  اپنے اپنے ریجنز سے ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس میں شریک ہوئے۔