نواز شریف نے قوم سے تواتر کے ساتھ جھوٹ بولا، اپنے اثاثے چھپائے اور منی لانڈرنگ کی؛خصوصی شہزاد اکبر

74

لاہور،11جنوری  (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شریف خاندان نے لندن سے آنے والی خبروں پر قبل از وقت مٹھایاں بانٹیں، ایک بار پھر ثابت ہوا کہ جھوٹوں کی داستان از سر نو جھوٹ ثابت ہو ئی، نواز شریف نے قوم سے تواتر کے ساتھ جھوٹ بولا، ماضی میں گزارا ہو جاتا تھا اب جھوٹ پکڑے جاتے ہیں، پانامالیکس کے بعد سے جھوٹ پکڑے جانے کا سلسلہ شروع ہوا، پانامہ کے بعد انہوں نے میڈیا پر قوم سے خطاب بھی کیا اور عدالت بھی گئے، تمام جگہ پر کی جانے والی باتیں متضاد تھیں جب معاملہ سپریم کورٹ میں زیربحث آیا تویہ قرار پایا کہ نواز شریف نے جھوٹ بول کراپنے اثاثے چھپائے اور منی لانڈرنگ کی، کس طرح حقائق کو ہمیشہ تبدیل کیا گیا کہ نواز شریف کوکرپشن پر نہیں اقامہ پہ نکالا گیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان وزیر اعلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہاکہ شریف خاندان کی جانب سے2012 میں صحافی کاوے مساوی کو رشوت دینے کی کوشش کی گئی، لندن میں کچھ رپورٹرز ہیں جو آزادانہ کام کرتے ہیں ان کا بھی اس حوالے سے موقف لیا جائے ۔

انہوں نے بتایاکہ اس وقت  نیب نے  2000 میں براڈ شیٹ ایسٹ ٹریسنگ کمپنی کوایک معاہدہ کے تحت ہائر کیاجس کے ساتھ پاکستان حکومت نے معاہدہ یہ کہہ کر ختم کردیا تھاکہ کمپنی ہمیں  معاونت فراہم  نہیں کررہی جس کے بعد براڈ شیٹ کمپنی آرٹریبیوشن میں چلی گئی جہاں کمپنی نے موقف اختیارکیا کہ اس وقت کی حکومت نے جوریکوریز کی ہیں ہمیں ان کا20 فیصد معاہدہ کے تحت ادا کیا جائے،مصالحتی عدالت میں یہ کیس2016 تک چلتا رہا،جون 2020 میں چارجنگ آرڈر لگا دیا گیا، براڈ شیٹ کو پے منٹ ہوئی تو اس کے بعد چارجنگ آرڈر دے دیا گیا، آرٹریبیوشن میں جس طرح کیس کو ہینڈل کیا گیا اس پر بھی کافی سوال ہیں،جو بھی اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کارروائی ہو گی، جس بات پر شریف خاندان والے فخر کر رہے تھے کہ کاوے مساوی نے ان کے حق میں کوئی بات کی وہ بھی بات غلط نکلی ،یہ صرف اقامہ کی بات نہیں ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ اقامے کی آڑ میں کوئی بھی پبلک آفس ہولڈر منی لانڈرنگ آسانی سے کر سکتا ہے، نیب کے قانون میں یہ ہے کہ اگر آپ کے اثاثے پکڑے جاتے ہیں اور آپ کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے تو آپ کرپٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے اثاثوں کی تمام منی ٹریل دی اور عدالت سے صادق وامین قرار پائے ، شریف خاندان کرپشن اسے سمجھتے ہیں کہ جیسے اینٹی کرپشن والے پٹواری کو پکڑتے ہیں۔

معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ آغاز میں مریم نواز نے کہا تھا کہ میری لندن میں کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں ہے، جب لندن سے یہ خبر آئی کہ ایون فیلڈ کا مقدمہ خارج کر دیا گیا نہ کسی نے آرڈر دیکھا نہ کیس دیکھا اور انٹرویو دیا کہ ہمیں لندن کی عدالت نے بری کر دیا،ایک دفعہ پھر مریم صفدر اور نواز شریف کا کیس پکڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف پاکستان میں وزیر دفاع سمیت مختلف وزارتوں میں رہے اور اسی دوران وہ دبئی کی ایک مکینیکل کمپنی میں ملازمت بھی کرتے رہے،خواجہ آصف کہتے ہیں کہ وہ 14 کروڑ روپے ان کوتنخواہ ملتی تھی یہ رقم ان کےاکاونٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ ان کو بذریعہ کیش ادائیگی کرتے تھے، اسی طرح احسن اقبال ، نواز شریف و دیگر لیڈر شپ کے پاس اقامے ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ براڈ شیٹ کمپنی سے ایک دو بار میں بھی ملا تاکہ پاکستان کے ٹیکس پیئر کا کم سے کم نقصان ہو ، اب ہم گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کام کر رہے ہیں ، ٹیکس پیئر کا اس پر کوئی خرچہ نہیں ہوتا۔نواز شریف کی واپسی کے سوال پر معاون خصوصی نے کہا کہ نواز شریف کا باہر جانا ان کی بیماری کا معاملہ تھا،میڈیکل بورڈ نے ان کی  صحت پر ساری رپورٹ دی،جوڈیشل آرڈر کے تحت ان کو جانے کی اجازت ملی یہ اس جوڈیشل آرڈر کی رو سے بھی بھگوڑے ہیں، نواز شریف کو واپس لانے کے لئے کام ہو رہا ہے،نواز شریف کا کیس اسحاق ڈار وغیرہ سے مختلف ہے ، اپوزیشن والے ایک تو علاج کروانے باہر گئے ہوئے ہیں، ایک صاحب کااور بھی پتہ لگا ہے کہ انہیں منانے کے لئے گئے ہیں،جب ان پرمشکل آتی ہے تو یہ شدید بیمار ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتساب کسی طاقتور کا ہی ہوتا ہے آپ نے کسی ریڑھی والے کا کیا احتساب کرنا ہے،جب بھی ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے تو وہ سیاسی انتقام کارونا رونا شروع کر دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے لوگ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ( ن) والے کتنے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب بہتر بتا سکتا  ہے کہ کیس میں انہیں کب طلب کیا جانا ہے کب نہیں، اگر کوئی بھی نیا ثبوت ملتا ہے تو پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے کہ الزام دہندہ کے سامنے وہ ثبوت رکھے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ مریم نواز کی طلبی ہوئی تو وہ چار سو افراد کا جتھہ لے کر نیب کے دفتر پر حملہ کرنے پہنچ گئیں،ان کے  ابا جان نے بھی سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا یہ انہیں کے نقش قدم پرچل رہی ہیں۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈارکوواپس لائے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈاراسائلم کے دفاتر کے باہر گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں جہاں اسائلم کے کیسز ہوتے ہیں۔

ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف پاکستان کی واحد پارٹی ہے جو ایک خاندان کی جاگیر نہیں ہے، پوری دنیا کی پولیٹیکل پارٹیز کے جیسے فنڈز اکٹھے کئے جاتے ہیں ویسے ہی اس پارٹی کے کئے گئے ،الیکشن کمیشن کو ایک ایک پیسے کا ریکارڈ دے دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا بھی ایک کیس الیکشن کمیشن میں چل رہا ہے ہم کہتے ہیں کہ اس کیس کی پبلک ہیرنگ ہو تاکہ سب دیکھیں ۔