لاہور، 6 جنوری (اے پی پی):وزیر محنت پنجاب انصر مجید نیازی نے کہا ہے کہ ورکز ویلفئیر فنڈ پر دس سال تک کام نہیں ہوا تھا،2019 میں ورکز ویلفئیر بل بزدار حکومت نے پاس کرایا اب ورکرز اور ان کی فیملیز کو واجبات کیلئے کئی سالوں تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا،فیکٹریوں کی آن لائن رجسٹریشن ہو رہی ہے ، آٹو میشن ہم نے شروع کی فیکٹریوں کی 92 فیصد کنٹری بیشن آن لائن جمع ہو رہی ہے، سکیورٹی ہسپتالوں کیلئے ہاسپٹل مینجمنٹ سسٹم تیار ہے۔ورکرز کیلئے ای کارڈ متعارف کرا رہے ہیں ۔
ان خیالات کا انہوں نے وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا سرگودھا، رحیم یار خان، ڈی جی خان اور قصورمیں نئے ہسپتال بنا رہے ہیں ، زمینیں خرید لی ہیں ڈیتھ گرنٹ ، میرج گرانٹ اور سکالرشپ کرانٹ میں اضافہ کیا ہے ، 2013 سے زیرا لتواء ڈیتھ، میرج گرانٹ اور سکالر شپ کے کیسوں پر 9 ارب روپے کی ادئیگی کردی گئی ہے ، لیبر کالونیوں میں ورکرز کو مالکانہ حقوق دینے کیلئے پر عزم ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ورکرز کے بچوں کو کسی بھی معیاری سکول میں تعلیم کے مواقع دینے کیلئے کام کر رہے ہیں ، اس طرح ورکرز کےڈیڑھ سے دو لاکھ بچوں کو تعلیم دے پائیں گے ۔
اس موقع پر وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں حقیقی تبدیلی آ چکی، لیبر انسپکڑ کے گٹھ جوڑ کو توڑا گیا ھےورکرز کے حقوق یرغمال بنا لئے جاتے تھے ، آٹو میشن سےتمام معاملات شفاف ہو چکے ہیں ، ورکرز اور فیکٹری مالکان کو لیبر انسپکٹر کی محتاجی سے نجات دلا دی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم سے ہی ورکرز کے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت دی جاسکتی ہے،محکمہ محنت وزیر اعظم کے دو نہیں ایک پاکستان کا ویژن کوعملی شکل دے رہا ہے ۔ورکرز کا تعلیم یافتہ بچہ نسل در نسل برسراقتدار آنے والوں کیلئے علم بغاوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب میں سے کسی کی شوگر مل نہیں شوگر مافیا، آٹا مافیا، گندم مافیا، قبضہ مافیا ، جہاں جہاں مافیا ھے اس کا سر کچلنے کا اعزاز وزیراعظم کو حاصل ہے، وزیر اعظم نے عوام کا خون چوسنے والے ہرمافیا کو ملیا ملیٹ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔











