اشرافیہ اور کرپٹ مافیا کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے ملک میں غریب، غریب تر ہوتا چلا گیا، مسلم امہ کا درخشاں ماضی ہم سب کے لئے مشعل راہ ہونا چاہیئے، صدر مملکت کا اخوت فاﺅنڈیشن کی تقریب سے خطاب

88

لاہور۔6مارچ  (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اشرافیہ اور کرپٹ مافیا کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے ملک میں غریب، غریب تر ہوتا چلا گیا، مسلم امہ کا درخشاں ماضی ہم سب کے لئے مشعل راہ ہونا چاہیئے، معاشرتی اصلاح اور ترقی کے لئے عدل و انصاف پر مبنی ریاست کلیدی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، بابائے قوم نے ملکی ترقی کے لئے خواتین کے مساویانہ کردار پر زور دیا، اخوت فائونڈیشن  کی مستحق اور پسے ہوئے طبقات کے لئے خدمات قابل ستائش ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو لاہور میں اخوت فائونڈیشن  کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ اخوت فائونڈیشن  نے غریب خاندانوں کو قرضوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ 9 ہزار گھروں کی تعمیر کے لئے بھی مستحق خاندانوں کی معاونت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو قرض واپس کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ماضی میں اشرافیہ اور استحصالی طبقات نے اربوں کے قرضے لئے اور بدعنونی اور لوٹ کھسوٹ کرکے بیرون ملک منتقل کر دیئے جس کی وجہ سے ملک میں غریب غریب تر ہوتا چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طبقے کے خلاف جدوجہد نئی نہیں طویل ہے جسے منطقی انجام تک پہنچنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضمون پڑھ کر بہت افسوس ہوا جس میں لکھا گیا تھاکہ یہ اب بھی ماضی کی باتیں کرتے ہیں، ہم ماضی کی بات کیوں نہ کریں، نبی کریمﷺ اور قرآن مجیدکی تعلیمات اور مسلم امہ کا درخشاں ماضی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ۔19 میں ہمارا ڈسپلن، ہماری عبادات ، دعائیں اورغریب طبقات سے احساس کے رشتے کی وجہ سے ہم وسائل کم ہونے کے باوجود ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کوویڈ پر قابو پانے میں اللہ کی مدد اور نصرت کی مدد سے کامیاب رہے ۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ عرب میں جب اسلام پھیلا تو سب سے طاقتور چیز نکلی وہ بدووں میں محبت اور اخوت کا رشتہ تھا، میرے اور آپ کے نبیﷺ نے ہمارے لئے راستے متعین کر دیئے ہیں اللہ کی راہ میں خرچ ، ایثار اور قربانی کے لئے صحابہ کرام پیش پیش رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے کنگال لوگ ہوتے ہیں جو ماضی کی طرف نہیں دیکھتے، علم کا ذخیرہ آخرت کا راستہ ماضی سے منسلک ہونے میں پنہاں ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اخوت فائونڈیشن  قرض سے روزگار کا راستہ فراہم کرتی ہے، چین نے غربت کے خاتمہ کے لئے ایسے ہی ماڈل اختیار کئے، کویڈ میں بھی اخوت جیسے اداروں نے اپنا مثبت کردار ادا کیا اور دوسروں کے لئے مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لئے خصوصی افراد کو بھی قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے، بابائے قوم نے ملکی ترقی کے لئے خواتین کے مساویانہ کردار پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی اصلاح ترقی کے لئے عدل و انصاف پر مبنی ریاست کلیدی اہمیت کے حامل ہوتی ہے، قرآن کریم میں مستحقین کی مدد کرنے کی خصوصی تلقین کی گئی ہے، موجودہ دور کے سماجی مسائل کے حل کے لئے ہمیں ریاست مدینہ کے سنہری اصولوں پر عمل کرنا ہوگا،اشرافیہ اورکرپٹ مافیا اور استحصالی طبقے کے خلاف جدوجہد طویل ہے تاہم اسے منطقی انجام تک پہنچنا ہو گا، معاشرتی اصلاح اور ترقی کے لئے عدل و انصاف پر مبنی ریاست کلیدی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، میرا ایمان ہے کہ ملک کا مستقبل روشن ہے۔