پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی اورسینٹ میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے: شبلی فراز

68

اسلام آباد،13مارچ  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی اور سینٹ میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے ۔حکومت ، معاشی اور عدلیہ اصلاحات ، عوام کی فلاح و بہبود کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی ،اپوزیشن اگر اس میں ہمارا ساتھ دینا چاہے تو اس کا خیر مقدم کرینگے۔

ہفتہ کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب  کرتے  ہوئے وفاقی وزیر  کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں جمہوری عمل کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، وزیراعظم نے الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے ہمیشہ اوپن ووٹنگ پر زور دیا اور اپوزیشن ووٹوں کی خریدوفروخت کر کے سیکرٹ بیلٹنگ چاہتی تھی ، سینٹ کا انتخاب عام انتخاب سے مختلف ہے یہاں ہاؤس چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب رولز کے تحت کرتا ہے ، نومنتخب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی ، ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی اور پاکستانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صادق سنجرانی بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ علاقے جو ماضی میں نظر انداز کیے گئے ان کے لئے عملی طور پر کچھ کیا جائے ۔

وفاقی وز یر نے کہا کہ سابقہ فاٹا بھی بہت پیچھے رہ گیا تھا اس کی ترقی کے لئے وزیراعظم نے فاٹا کا خیبر پختونخوا میں  انضمام کیا ، یہ ایک مشکل کا م تھا ۔صدیوں سے چلنے والے نظام کو احسن طریقے سے خیبر پختونخوا  میں ضم کیا گیا   اور اس علاقے کی ترقی کے لئے 100ارب کا فنڈ دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ بلوچستان اور فاٹا کو  بطور سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین   نمائندگی دی گئی ہے ۔

 سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہماری حکومت سمجھتی ہے کہ ادارے اپنا اپنا کام کرتے ہوئے عوام کی خدمت کریں اور  ترقی کے لئے  اپنا کردار ادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے جو براہ راست عوام کے لئے ہوتی ہے لیکن پچھلے اڑھائی سالوں میں بدقسمتی سے پنجاب سے مسلم لیگ (ن )  اور دیہی  سندھ کی علاقائی جماعت پیپلز پارٹی نے قوانین اور اصلاحات کو منظور نہیں ہونے دیا ۔اپوزیشن کی سیاست کا مقصد ذاتی فوائد حاصل کرنا ہے یہ ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں لانا پسندکرتےہیں جو خاص گروہ کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ انہی بنیادوں پر پچھلے 30 سے 35 سالوں کی سیاست نے اداروں کو مفلوج ، اور عوام کو انصاف اور خوشحالی سے محروم رکھا ۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے عمران خان کے عزم  اور بے داغ قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے 2018کے الیکشن میں بھاری مینڈیٹ سے کامیاب کرایا۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں آنے والے لوگوں کے لئے ایک معیار اور ایسا طریقہ کار ہو جس میں پیسے  کی سیاست نہ  ہو ،قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پرلوگ پارلمینٹ میں آئیں اورعلاقے کے عوام کی آواز بلند کریں ۔ اسی انتھک محنت کے بعد آج پی ٹی آئی قومی اسمبلی اور سینٹ میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40سال سیاست کرنے والے پارٹیاں آج علاقائی پارٹیاں بن چکی ہیں ۔ اپوزیشن نے کبھی بھی قانون کی بالادستی نہیں چاہیے کیونکہ یہ انکے مفادات کے راستے میں وکاوٹ بنتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت کی محنت کے ثمرات آنا شروع ہو چکے ہیں ۔آج ملک میں ریکارڈ ترسیلات آرہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی چیلنج ہے۔ وزیراعظم نے اپنی پوری توجہ اسی پر مرکوز کی ہوئی ہے روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں ۔

وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا  کہ  عمران خان نے ہمیشہ شفاف الیکشن کے لئے بات کی اور عملی اقدامات اٹھائے ، سینٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ،ایوان میں بل لائے اور صدارتی آرڈیننس جاری کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم غیر فطری اتحاد ہے اس میں شامل جماعتوں کے مفادات میں تضادات  اور راستے مختلف ہیں ،تو ایک منزل کیسے ہوسکتی ہے ۔ یہ این آر او کی صورت میں ذاتی ریلیف چاہتے تھے ،بلاول بھٹو اور طلال کے درمیان مکالمہ نے ثابت کر دیا کہ یہ ایک دوسرے کے خیر خواہ نہیں ہیں ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے آئینی، سیاسی اور اخلاقی راستے استعمال کیے ہیں ۔ ملک میں معیشت بحالی کے سفر پر ہے ،ہمارا محور عوام اور انکی تکالیف کو دور کرنا ہے ۔

ایک  اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن عام الیکشن نہیں تھا ،ہاؤس کا اپنا الیکشن تھا ، اس پر عدالتوں پر جانے سے کوئی کسی کو نہیں روک سکتے ۔ حقیقت یہ ہی ہے سینٹ کا انتخاب ہاہوس کے رولز کے مطابق ہے اسے باہر نہیں لے کر جایا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد اپوزیشن کا حق بنتا ہے ، جب عدم اعتماد آئے گی تو اسکا مقابلہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل کیمرےکے معاملے پر کمیٹی بنے گی اور معاملے کی تہہ تک جائے گی۔

انہوں نے  مزید کہا کہ کورونا  وائرس کی بڑھتی ہوئی شرح میں سب کو احتیاط کرنی چاہیے، کوئی ایسی سرگرمی نہیں کرنی چاہیے جو ہماری صحت اور سلامتی کے لئے چیلنج بنے ۔