آج کا افغانستان ماضی کا افغانستان نہیں، تبدیل ہو چکا ہے ،افغان طالبان ترقی کا حصہ بن رہے ہیں؛ افغان سیاسی رہنما حسینہ سید

47

اسلا م آباد ، 16 جون (اے پی پی ):افغان سیاسی رہنما، انسانی حقوق کی علمبردار اور معروف کاروباری شخصیت حسینہ سید نے کہا ہے کہ آج کا افغانستان ماضی کا افغانستان نہیں، تبدیل ہو چکا ہے ،افغان طالبان ترقی کا حصہ بن رہے ہیں۔افغانستان کی اقتصادی ترقی کیلئے امن ناگزیر ہے۔

ان خیالات کا اظہار افغان سیاسی رہنما، انسانی حقوق کی علمبردار اور معروف کاروباری شخصیت حسینہ سید نے بدھ کو  یہاں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) میں خطاب کے دوران کیا۔ انہوں   نے کہا کہ  افغانستان معاشی اور اقتصادی سطح پر ترقی کرے گا تو شدت پسندی کم ہوگی ،پاکستان نے امن کے لیے بہت مدد کی، افغانستان میں امن دشمن عناصر موجود ہیں، جن کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی ،افغانستان اور پاکستان کا رشتہ انتہائی مضبوط، اہم اور نہ ختم ہونے والا ہے، ہم کبھی جدا نہیں ہو سکتے۔

حسینہ سید نے کہا کہ  افغانستان سمیت علاقائی امن کے لیے کی جانے والی کاوشیں قابل قدر ہیں، پاکستان نے افغانستان میں امن  کی بحالی کیلیے بہت مدد کی لیکن بد قسمتی سے افغانستان میں امن دشمن عناصر موجود ہیں جو امن کاوشوں کے درپے ہیں ایسے تمام عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔انہوں نے کہاکہ افغانستان کی اقتصادی ترقی کے لیے امن، دیرپا امن کے لیے اقتصادی ترقی ناگزیر ہے جبکہ افغانستان اور پاکستان کا رشتہ انتہائی مضبوط، اہم اور نہ ختم ہونے والا ہے۔  افغان سیاسی رہنما نے کہا کہ  افغانستان کے لیے پاکستان اور پاکستان کے لیے افغانستان اہم ہیں،دونوں ممالک کے مابین تعلقات کسی سپر پاور کے مرہون منت نہیں، دونوں ممالک کے مابین معاشی، اقتصادی اور تجارتی تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔ انہوں  نے کہا پاکستان اور افغانستان کے مابین باڑ کی تنصیب اچھا اقدام ہے باڑ کی تنصیب سے دونوں

ممالک ایک دوسرے پر الزام تراشی نہیں کریں گے جبکہ باڑ کی تنصیب باہمی اعتماد سازی میں بھی مددگار ہو گی۔انہوں کہا کہ افغانستان کی ترقی میں خواتین اور نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے افغانستان ماضی کا افغانستان نہیں، آج کا افغانستان تبدیل ہو چکا ہے ۔

حسینہ سید نے بھارت کی افغانستان میں مداخلت کے سوال پر کہا کہ افغانستان کوایک غیر جانبدار ملک ہونا چاہیے، جانبداری درست نہیں، افغانستان جانبدار ملک رہا تو کبھی ترقی نہیں کر سکے گاجبکہ ہمسایہ ممالک کو افغانستان کی مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کے بچے اسکول جا رہے ہیں تو ان کی ذہنیت بھی بدل رہی ہے جبکہ افغان طالبان بھی پڑھے لکھے لوگ ہیں، پہاڑوں پر رہنے والے لوگ اب ہتھیار کے بجائے مشینیں استعمال کرکے انہیں پہاڑوں سے معدنی ذخائر پر کام کر رہے ہیں،انہوں نے خود طالبان کیساتھ ماربل کا کام کیا،افغانستان طویل جنگ و جدل کا شکار رہا، چیزیں بدلنے میں وقت لگتا ہے. طالبان سمیت دیگر فریقین کو بھی بدلنے میں وقت لگے گا۔

افغان سیاسی رہنما حسینہ سید نے کہا کہ عبوری حکومت میں غیرجانبدار سیاسی رہنماں، جماعتوں کو شامل ہونا چاہیے، افغان آئین اور جمہوری نظام کے خدوخال پر تمام فریقین کے مابین گفت و شنید ہونی چاہیے، افغانستان کو لویہ جرگہ کی مدد اور تعاون سے آگے بڑھنا ہو گا، افغانستان کی ترقی اور خوشحالی میں ہزارہ کمیونٹی کا کلیدی کردار ہے ہزارہ کمیونٹی تعلیم یافتہ، ذمہ دار، قابل، باصلاحیت اور افغان ترقی میں کلیدی کردار ہے۔