عوام کی حمایت سے مافیا کو شکست دیں گے اور نیا پاکستان بنا کر دکھائیں گے؛وزیراعظم عمران خان

35

بھمبر ،18جولائی (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ عوام کی حمایت سے مافیا کو شکست دیں گے اور نیا پاکستان بنا کر دکھائیں گے،ظلم کے خلاف اور قانون کی حکمرانی کےلئے ہم نے جہاد شروع کیا ہے، مافیاز پرانے نظام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں مقابلہ کرنا آتا ہے۔

اتوار کو آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح کو وہ لیڈر مانتے ہیں، قائد کے مخالفین بھی یہ مانتے تھے کہ وہ سچ بول رہا ہے اور انصاف پسند ہے اس لئے ان کے مخالف بھی ان کی عزت کرتے تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک عظیم قوم بننا ہے اور اپنے آپ کو اور اس ملک کو بدلنا ہے، سچائی اور ایمانداری سے ہم اپنے آپ کو اور اپنے ملک کو بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام جب 25 جولائی کو ووٹ ڈالنے جائیں تو ووٹ ڈالنے سے قبل اپنے آپ سے سوال ضرور کریں کہ کیا وہ ایک ایسی جماعت کے لیڈر کوووٹ ڈال رہے ہیں جو سچا اور ایماندر ہے یا نہیں، کیا وہ کسی ایسے لیڈر کوووٹ تو نہیں ڈال رہا جو جھوٹ بولنے والا ہو اور بالی ووڈ کی ایکٹنگ کر کے بیماری کا بہانہ بنا کر باہر جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کی ایسی اداکاری تھی کہ ہماری کابینہ کی خواتین نے رونا شروع کر دیا کہ خدا نخواستہ جہاز کی سیڑھیاں بھی چڑھیں گے یا نہیں لیکن جیسے ہی لندن کی ہوا لگی وہاں دوسرا نواز شریف برآمد ہوا۔انہوں  نے کہا کہ پوچھنا چاہئے کہ جب اس ملک کی عدالتیں آزاد ہیں ، عمران خان سپریم کورٹ پر ڈنڈوں سے حملہ نہیں کر رہا ، عمران خان کسی جج کو ٹیلی فون نہیں کرتا، پی ٹی آئی لاہور ہائی کورٹ کو کنٹرول نہیں کرتی، اگر عدالتیں آزاد ہیں تو یہ لوگ باہر کیوں بیٹھے ہیں، ان کا منشی اسحاق ڈار ہماری حکومت آنے سے پہلے بھاگ گیا تھا، ان کا بیٹا بھی باہر ہے اسی طرح شہباز شریف کا بیٹا اور داماد بھی باہر ہیں، یہ کس سے ڈر رہے ہیں، عدالتیں تو آزاد ہیں، پی ٹی آئی کے دو وزراء کو بھی جیلوں میں بھیجا گیا، اگر ہم عدالتوں کو کنٹرول کرتے تو ہمارے وزراء کیسے جیلوں میں جا سکتے تھے اس لئے یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ جس پارٹی کو لوگ ووٹ دے رہے ہیں ان کا لیڈر صادق اور امین ہے یا نہیں وہ سچا اور ایماندار ہے یا نہیں، اگر لیڈر ایماندار ہو گا تو امیدوار اور نیچے والا بھی ڈرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ آپ دنیا میں تمام ممالک کا جائزہ لیں جو بھی ملک غریب ہو گا اس کے لیڈر نواز شریف اور آصف زرداری جیسے نکلیں گے، ان ممالک میں بھی پیسہ چرا کر باہر بھیجا جا رہا ہو گا، دنیا میں آپ کو ایسا کوئی بھی غریب ملک نہیں ملے گا کہ جہاں قانون کی حکمرانی اور انصاف ہو، جہاں غربت ہو گی وہاں قانون نہیں بلکہ طاقت کی حکمرانی ہو گی، ایسے ممالک میں کرپٹ لیڈر، جیلوں سے باہر جبکہ غریب اور کمزور لوگ جیلوں میں ہوں گے، حضرت علی کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چلتا، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ اگر میری بیٹی بھی جرم کرے گی تو اسے سزا ہو گی کیونکہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے، انصاف نہ ہونے سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کمزور لوگ جیلوں میں جاتے ہیں اور طاقتور کا پوتا ملک سے باہر جا کرپولومیچ کھیلتا ہے، جو لوگ برطانیہ میں مقیم ہیں ان کو پتہ ہے کو پولو بادشاہوں کا کھیل ہوتا ہے اور اس کیلئے کافی پیسے چاہئے ہوتے ہیں، ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آ گیا یہ پیسہ اس ملک کے لوگوں کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک قوم تب کھڑی ہوتی ہے جس کی اخلاقیات کی بنیاد حق اور سچائی پر ہو، مولانا روم سے پوچھا گیا کہ قوم کیسے مرتی ہے تو اس پر مولانا روم نے ایک خوبصورت اور خوشبودار اور بدصورت درخت کی مثال دی اور کہا کہ جو قوم اچھے اور برے اور سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کرتی وہ پہلے اخلاقی اور پھر معاشی طور پر تباہ ہو جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم سچائی اور انصاف کے راستے پر نکلے ہیں، ظلم کے خلاف اور قانون کی حکمرانی کےلئے ہم نے جہاد شروع کیا، مافیا پرانے نظام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن آپ کے کپتان کو مقابلہ کرنا آتا ہے، عوام کی حمایت سے مافیا کو شکست دیں گے اور نیا پاکستان بنا کر دکھائیں گے۔

وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور صبر و استقامت کو سراہا اور کہا کہ جب 5 اگست کے واقعات ہوئے تو انہیں یہ خدشہ تھا کہ بھارت کشمیریوں پر مزید ظلم کرے گا، کشمیر کے نوجوانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، پیلٹ گنوں سے انہیں نابینا کیا گیا لیکن کشمیریوں کا جوش و جذبہ برقرار رہا، آج نہ صرف میں بلکہ ساری مسلم دنیا اس بات پر فخر کر رہی ہے کہ کشمیری دلیری کے ساتھ نریندر مودی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔انہوں نے  کہا کہ کوئی شک نہیں کہ آنے والے دنوں میں ہم مقبوضہ کشمیر کو آزاد دیکھیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ عوام کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ ماسک کا استعمال ضرور کریں کیونکہ کورونا وائرس کی وباء ختم نہیں ہوئی ہے اور انہیں عوام کی فکر ہے، ماسک کے پہننے سے ہم وباء سے بچ سکتے ہیں، اللہ تعالی نے ابھی تک پاکستان کو اس وباء سے بچایا ہے، ہندوستان میں کورونا سے بڑی تباہی ہوئی ہے اور لاکھوں لوگ مر چکے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں، ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہئے، ہم پر اللہ تعالی کا خاص کرم ہے، ہم ماسک پہن کر اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اللہ کا شکر ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس ملک کے نوجوانوں اور ملک کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ ہم ایک عظیم قوم بنیں، پاکستان ایک ایسی قوم ہو جب اس کا شہری پاسپورٹ لے کر جائے تو لوگ اس کی عزت کریں۔

 وزیراعظم نے کہا کہ عظیم قوم بننے کیلئے ہمیں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا اور ان سے سیکھنا ہو گا، ہمارے پیغمبر نے معاشرے کے ان لوگوں کو عزت دی ہے اور انہیں اوپر اٹھایا جن کی عزت نہیں تھی، اس وقت دو سپر پاورز تھیں، مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی، دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہجرت مدینہ کے 13 سال بعد ایک سپر پاور اور 14 سال بعد دوسری سپر پاور نے مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ وہ کون سی وجوہات تھیں کہ وہ عرب جنہیں کوئی پوچھتا نہیں تھا، انہوں نے دنیا کی امامت کی، اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ میرے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم  کی زندگی سے سیکھو ان کی شریعت پر چلو اس میں ہم سب کی بہتری ہے اور انہی اصولوں پر چل کر انسان بڑا انسان بنتا ہے، مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کوئی بھی قوم چلے گی تو وہ عظیم قوم بنے گی، میں چاہتا ہوں کہ ہماری قوم عظیم قوم بنے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم ماضی میں غلط راستے پرچلے بھیک اور قرضے مانگ کر اور پرائی جنگوں میں امداد کے شامل ہونے سے ہماری کوئی عزت نہیں ہوئی ہے، دنیا میں بھیک اور قرضہ مانگنے والوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی، یہ انسانی فطرت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم اللہ سے مانگتے ہیں اور اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تو وہ خوش ہوتا ہے، انسانوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم  کو لوگ حتی کہ ان کے دشمن اور مخالف بھی صادق اور امین یعنی سچا اور انصاف کرنے والا مانتے تھے، سچے اور انصاف کرنے والے کی دنیا عزت کرتی ہے۔

 قبل ازیں جلسہ عام سے علی شان سوہنی، انوار الحق نور اور چوہدری انوارالحق نے بھی خطاب کیا اور بھمبر آنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم کے جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں پرجوش لوگ موجود تھے جنہوں نے پی ٹی آئی کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ جلسہ عام میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض سینیٹر فیصل جاوید نے ادا کئے۔