اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں مختلف نسلوں کے لوگ موجود ہیں، پاکستان افغانستان میں کسی ایک گروپ کی حمایت نہیں کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان نسلی بنیادوں پر تقسیم شدہ ملک ہے، پختون آبادی کا 45 فیصد ہیں، ان کے علاوہ تاجک، ہزارہ اور ازبک ہیں، اس طرح افغانستان میں ایک تقسیم شدہ حکومت ہے جو مختلف نسلی گروپوں کے لوگوں پر مشتمل ہے، اس لیے اگر ایک قسم کی آبادی یا نسلی گروپ دوسروں پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں افغانستان میں ہمیشہ بے چینی رہے گی، ہم وہاں تمام فریقین پر مشتمل حکومت کے حامی ہیں، اگر وہاں بے چینی ہوگی تو پاکستان متاثر ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں افغانستان سے بڑی پختون آبادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2001 کے بعد پاکستان کو اس جنگ میں گھسیٹا گیا جب ہم نے امریکہ کا ساتھ دیا اور اس جنگ میں حصہ لیا جس کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تھی اور بعد میں اس نے کوئی اور شکل اختیار کر لی اور ہمیں اپنے قبائلی علاقوں میں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان کو امریکہ کی جنگ میں شامل ہونے پر 70 ہزار جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے، پرانی جہادی تنظیمیں سوویت یونین کے خلاف جہاد کیلئے بنائی گئی تھیں وہ سب پاکستان کے خلاف ہو گئیں کیونکہ پاکستان نے انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ سوویت یونین کے قبضے کے خلاف جنگ جہاد تھا جبکہ امریکی قبضے کے خلاف جنگ دہشت گردی ہے تو وہ پاکستان کے خلاف ہوگئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں خانہ جنگی جیسی صورت حال تھی کیونکہ ہم امریکہ کا ساتھ دے رہے تھے، بنیادی طور پر تمام ہمدردیاں پختونون نہ کہ طالبان کے ساتھ تھیں، قبائلی علاقوں کی آدھی آبادی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئی تھی جو اب بھی اس تباہ کن صورت حال کے اثرات سے نبرد آزما ہے، اس لئے یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل نکلے اور افغان حکومت تمام فریقین کی نمائندہ ہو۔











