اسلام آباد،10اگست (اے پی پی):پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق لال چند ملہی نے کہا ہے کہ رحیم یار خان میں مندر پر حملہ آوروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے رحیم یار خان میں مندر کی بحالی پر پنجاب حکومت کا شکرگزار ہوں، حملہ آوروں کو گرفتار کیا جارہا ہے اور ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ کے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ 1965 اور 1971ء کی جنگ کے بعد بعض املاک کو متروکہ قرار دیا گیا ہے،وجودہ حکومت نے 2018ء میں اقتدار میں آنے کے بعد متروکہ وقف املاک پر قبضہ ختم کرانے کے لئے اقدامات کئے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں متروکہ وقف املاک میں 627 عمارات، 357 دکانیں، 81 پلاٹس اور دو فیکٹریاں شامل ہیں۔ متروکہ وقف املاک میں دو لاکھ ایکٹر سے زائد اراضی شامل ہے۔ ان املاک پر قبضہ مافیا نے قبضہ کر رکھا ہے۔ قبضہ چھڑانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں،وزارت مواصلات اس حوالے سے تیزی سے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے صنعت و پیداوار عالیہ حمزہ نے شیر علی ارباب کے نکتہ اعتراض کے جواب میں کہا کہ ملکی سلامتی اور حساس معاملات پر رائے دینے کے حوالے سے ضابطہ اخلاق مرتب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اداروں پر الزامات عائد کر نا صحافت نہیں، آزادی اظہار کے نام پر اداروں اور حکومت پر الزام تراشی کی روش ختم ہونی چاہیے۔ ملکی سلامتی اور حساس معاملات پر رائے دینے کے حوالے سے ضابطہ اخلاق مرتب ہونا چاہیے اور جعلی خبروں پر جرمانے کئے جانے چاہئیں کیونکہ جعلی خبریں کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ ہمارے ملک میں تو جعلی خبروں پر اداریے بھی لکھے جاتے ہیں اور انہیں نیوز ہیڈ لائنز بھی بنایا جاتا ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔
نائیجر کے پارلیمانی وفد نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی آ ج کی کارروائی دیکھی۔ اجلاس میں آمد پر ارکان نے ڈیسک بجا کر وفد کا خیر مقدم کیا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، راجہ پرویز اشرف، خرم دستگیر اور دیگر ارکان نے وفد کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان اور نائیجر کے تعلقات کثیر الجہتی اور مستحکم بنیادوں پر استوار ہیں۔ نائیجر کی حکومت اور عوام نے مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کے حق خوداردیت کے لئے ہمیشہ سفارتی فورمز پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں مختلف بل اور قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹ پیش کئے گئے ، جن میں دستور (ترمیمی) بل 2021ء ،پاکستان میڈیکل کمیشن (ترمیمی) بل 2021ء ،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2021ء، پورٹ قاسم اتھارٹی (ترمیمی) بل 2021ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ، لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز (ترمیمی) بل 2021ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ، دستور (ترمیمی) بل 2020ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ، اسلام آباد تحفظ صارفین (ترمیمی) بل 2020ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ، پاکستان تحقیقاتی کونسل برائے آبی وسائل (ترمیمی) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ، پاکستان معیارات و کوالٹی کنٹرول اتھارٹی بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ، دستور (ترمیمی) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ، خصوصی ریلیف (ترمیمی) بل 2021ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ، رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2021ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ، قومی ادارہ برائے بحری امور (ترمیمی) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ، قومی کمیشن برائے پیشہ وارانہ و تکنیکی تربیت (ترمیمی) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ، مجموعہ ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2020ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ، اسلام آباد نجی تعلیمی ادارے رجسٹریشن و انضباط (ترمیمی) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ، تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا امتناع بل 2020ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ، پاکستان قومی کونسل برائے فنون (ترمیمی) بل 2019ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ، فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2020ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ، اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ترمیمی) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ، پاکستان اکادمی ادبیات (ترمیمی) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ اور مجموعہ تعزیرات پاکستان (ترمیمی) بل 2020ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ و دیگر شامل ہیں ۔
منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایجنڈے میں شامل امور نمٹائے گئے۔ بعد ازاں صدر نشیں امجد علی خان نے قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا۔











