ملتان، 04 آگست(اے پی پی): جنوبی پنجاب میں صحت کی جدید سہولیات کی فراہمی کا ایک اور سنگ میل عبور کر لیا، ملتان انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں گردے کا پہلا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا گیا ہے۔ کمشنر جاوید اختر محمود نے کڈنی سینٹر کا دورہ کیا، ڈونراور مریض سے ملاقات کی۔
جاوید اختر محمود نے کہا کہ کڈنی کی پیوندکاری کرنے والی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے اور کہا
کڈنی ٹرانسپلانٹ سے اس خطے کے لاکھوں مریضوں کو نئی زندگی ملے گی، مریض اور ڈونر دونوں روبہ صحت ہیں۔
جاوید اختر محمود نے کہا کہ صحت کی سہولیات تک شہریوں کی سہل رسائی حکومت پنجاب کی ترجیح ہے۔ کڈنی ہسپتال سے گردے کی مفت پیوندکاری سے غیر قانونی دھندہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
ہیڈ آف کڈنی انسٹیٹیوٹ ڈاکٹرعلی عمران زیدی نےکہا کہ مریض وقار کو انکی اہلیہ غزالہ نے گردہ عطیہ کیا ہے اور کہا مریض کو ایک سال تک مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا ڈونر خاتون کو بھی انڈر آبزرویشن رکھا جائے گا ایک سال میں گردہ پیوندکاری کے 24 مفت آپریشن کئے جائیں گے۔ ملتان انسٹیٹیوٹ آف کڈی ڈیزیز کو گردہ کی پیوندکاری کی اجازت ملنا اعزاز ہے۔
ایم ایس کڈنی ہسپتال نے کہا کہ انسانی اعضاء کی منتقلی کے عمل کو محفوظ ترین بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں انسانی اعضاء عطیہ کرکے قیمتی انسانی جان کو بچایا جاسکتا ہے۔
ڈونر اور مریض نے کڈنی انسٹیٹیوٹ کی تعریف کی اور سہولیات پر اطمینان کا اظہار بھی کیا اور کہا سرکاری ہسپتال میں مفت اور بہترین سہولیات سے دل خوش ہوگیا ہے، متعدد ہسپتالوں سے مایوس ہوکر کڈنی سینٹر ملتان میں آپریشن کروایا، مطمئن ہوں۔











