ترسیلات زر میں 5.4 ارب کا اضافہ، ٹیکس وصولی 42.3 فیصد بڑھی ، زرمبادلہ کے ذخائر 27.2 بلین ڈالر، ایکسپورٹس میں 35 فیصد اضافہ ریکارڈ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

16

اسلام آباد۔28ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام شریف فیملی سے لوٹی ہوئی دولت کی ریکوری چاہتے ہیں، شہباز شریف کا کیس روزانہ کی بنیاد پر چلے تو وہ اگلے چھ ماہ میں کم از کم 25 سال کے لئے جیل جا سکتے ہیں، پارلیمان کے اندر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتخابی اصلاحات پر بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں، یہ بات چیت وقت ضائع کرنے کے لئے نہیں بلکہ معاملات کو آگے بڑھانے کے لئے ہونی چاہئے، ہم ای وی ایم اور آئی ووٹنگ پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، آج پاکستان کی معیشت میں اہم حصہ اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات ہیں، اگر ہم نے انہیں ووٹ کا حق نہ دیا تو ان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی، کابینہ نے چاند کی رویت کے بارے میں نجی اعلانات پر پابندی عائد کر دی ہے، 2013  میں سڑکوں کے ٹھیکے 2021  کے ٹھیکوں کے مقابلے میں مہنگے تھے، این ایچ اے اب جو سڑک بنا رہی ہے وہ 2013  کے مقابلے میں فی کلو میٹر تقریباً 10 کروڑ روپے سستی تعمیر ہو رہی ہے، کابینہ نے ٹیلیفون انڈسٹریز آف پاکستان (ٹی آئی پی) کی نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کو منتقلی کی منظوری دے دی ہے، این آر ٹی سی ہری پور کے قریب فیوچر ٹیکنالوجیز کا یونٹ بنے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ میں اقتصادی اعشاریئے بھی پیش کئے گئے، غیر ملکی ترسیلات میں 5.4 بلین تک کا اضافہ دیکھا گیا، اسی طرح محصولات میں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران 858 ارب روپے کا اضافہ ہوا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 42.3 فیصد اضافہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی، مینوفیکچرنگ اور سروسز سیکٹرز میں بھی بہتری آئی ہے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 27.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جن میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے، برآمدات میں 35 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر بڑھی ہیں، درآمدی اشیا  کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن دوسری جانب عوام کی آمدن میں بھی اضافہ ہوا ہے، زرعی شعبہ میں کاٹن اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، شہروں میں درآمدی اشیا  کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اس لئے وہاں قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔