ہماری افواج کے جانبازوں نے ہمیشہ اپنے لہو سے پاکستان کی آزادی اور سلامتی کا تحفظ کیا‘صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں یوم دفاع و شہداء کی مرکزی تقریب سے خطاب

14

اسلام آباد۔6ستمبر  (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وطن عزیز کے دفاع کے لئے جانیں نچھاور کرنے والے شہداء اور ان کے ورثاء کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری افواج کے جانبازوں نے ہمیشہ اپنے لہو سے پاکستان کی آزادی اور سلامتی کا تحفظ کیا، اُن کی قربانیوں اور جانوں کے نذرانوں نے نہ صرف ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا بلکہ پوری قوم کا سر رہتی دنیا تک فخر سے بلند کر دیا، خطے کی ترقی اور نمو کا راز مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے جڑا ہے۔وہ پیر کو یہاں جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں یوم دفاع و شہداء کی مرکزی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ، تینوں مسلح افواج کے سربراہان ، شہدا ء پاکستان کے عظیم اہل خانہ، غازیوں، حاضر سروس و ریٹائرڈ عسکری حکام اور جوانوں نے بھی شرکت کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ6 ستمبر محض ایک دن نہیں بلکہ ہماری قومی تاریخ میں قومی یکجہتی حوصلے اور قربانی کا استعارہ ہے۔ بلاشبہ یہ تجدید وفا کا دِ ن ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کیسے آج سے 56 برس قبل پوری قوم ایک غیر اعلانیہ جنگ کے خلاف دشمن کے نا پاک عزائم کی راہ میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند حائل ہو گئی ۔ اس جدوجہد میں نا صرف ہم نے دشمن کی طاقت کے گھمنڈ کو نیست و نابود کر دیا بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم بحیثیت قوم نہ صرف اپنی آزادی سے محبت کرتے ہیں بلکہ اِس سر زمین کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آزادی کے پہلے سانس سے لے کر آنے والی نسلوں تک پاکستان کا بچہ بچہ اِس آزادی کیلئے جان دینے کو تیار ہے۔ جنگ چاہے سترہ دن کی ہو یا ستر برس کی ، روایتی ہو یا غیر روایتی ، ہمارا دشمن وطن کیلئے ہماری قربانیوں کی روایت اور جذبے کو ماند نہیں کر سکتا۔صدر عارف علوی نے کہا کہ ہماری بّری، بحری اور فضائی افواج کے جانبازوں نے ہمیشہ اپنے لہو سے پاکستان کی آزادی اور سلامتی کا تحفظ کیا ہے۔ اُن کی قربانیوں اور جانوں کے نذرانوں نے نہ صرف ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا بلکہ پوری قوم کا سر رہتی دنیا تک فخر سے بلند کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اِ نہی ناقابل فراموش قربانیوں کو آج ایک بار پھر نئے عزم سے یاد کرتے ہوئے ہم آج کے دن قوم کے ان عظیم سپوتوں اور ان کے خاندانوں کے جذبہ ء حب الوطنی کو تہہ دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ بےشک ہمارے شہید ہمارا فخر اور ہمارے سر کا تاج ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ آزادی عطیہ خداوندی ہے اور پاکستان کی آزادی اللہ تبارک وتعالی کی مدد اور ہمارے بزرگوں کی ایک لمبی جد و جہد کے بعد ہی ممکن ہوئی تھی۔ آزادی کے اس سفر میں بہت سے کٹھن مراحل آئے، لاکھوں خاندانوں نے ہجر ت کی، ماؤں اور بہنوں نے خون کے دریا عبور کئے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارادشمن روز ِ اوّل سے ہی ہماری آزادی و خود مختاری کے در پے تھا۔ آزادی کے حصول کے ساتھ ہی پاکستان کو ہندوستان کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان پر کبھی روایتی جنگ کی صورت میں جارحیت مسلط کی گئی تو کبھی دہشت گردی کی صورت میں، کبھی آبی جارحیت کی صورت میں تو کبھی مختلف معاشی اور سفارتی ہتھکنڈوں کی صورت میں۔ انہوں نے کہا کہ امن کیلئے پاکستان کی تمام تر کوششوں کے با وجود ہمیں آج بھی اپنے مشرقی ہمسائے کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور عزت و وقار کے ساتھ رہنے میں مسائل کا سامنا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا ہمسایہ ملک 1947ء سے آج تک ہماری آزادی کے حصول کی تاریخ کو دل سے قبول نہیں کر سکا۔ مگر اب وقت آگیا ہے کہ حقیقتوں کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے تمام مسائل کا منصفانہ حل تلاش کیا جائے ۔ اسی میں پورے خطے اور دونوں ملکوں کی عوام کی سلامتی و ترقی اور فلاح و بہبود کا راز مضمر ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہاں میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اِس خطے کی ترقی اور نمو کا راز مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے جڑا ہے، ہم ہندوستان کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے اور 5 اگست 2019ء کے بعد اٹھائے گئے وہ تمام اقدامات جو درحقیقت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں ان کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو یاد رکھنا ہوگا کہ جذبہ آزادی کو طاقت کے بل بوتے پر اور کالے قوانین کے جبر تلے زیادہ عرصہ تک دبایا نہیں جا سکتا، ہم کشمیریوں کے جذ بہ حریت اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی حمایت میں اپنی ہر ممکن سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، ہم افغانستان میں بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی پاکستان ان تمام کوششوں کا حصہ ہے جو افغانستان میں ایک پائیدار امن کے لئے کی جارہی ہیں ۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ یہاں میں آپ سب کی توجہ پاکستان کی ان عظیم قربانیوں کی طرف دلانا چاہوں گا جو ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں بحیثیت قوم ادا کیں ۔ ہماری بہادر افواج نے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لئے لا تعداد کامیاب آپریشنز کئے اور جنگ زده علاقوں کی بحالی کو ممکن بنایا۔ اسی طرح ہم نے پاکستان اور افغانستان کی بین الاقوامی سرحد پر باڑ لگا کر نہ صرف اپنے مغربی سرحدوں کو محفوظ کیا بلکہ تمام بے بنیاد الزامات کا بھی موثر جواب دے دیا۔ ہم دعا گو ہیں کہ افغانستان کے عوام امن اور سلامتی کے ایک نئے باب کا آغاز کریں کیونکہ افغان امن درحقیقت پاکستان میں امن کا مظہر ہے۔ مجھے امید ہے کہ دنیا اس خطے میں امن کے لئے کی گئی ہماری تمام کاوشوں کو کسی تعصب کے بغیر حقیقت کی نظر سے دیکھے گی اور سراہے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ زندہ قومیں وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ اپنے مقاصد ، صلاحیتوں اور استعداد کو نکھارتی رہتی ہیں ۔ ہماری بہادر افواج ہمیشہ اِسی جذبے کے تحت زمانے کے بدلتے معیار کے مطابق اپنے آپ کو تیار رکھتی ہیں۔ ہم سب کے لیے یہ بات باعث اطمینان بھی ہے اور باعث ِ عز ت و افتخار بھی ہے کہ پاکستان کی دفاعی صنعت میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ خود انحصاری کی طرف بھی بہت واضح پیش رفت ہوئی ہے۔ الحمد للہ ، آج نہ صرف ہم ایک ذمہ دار نیوکلیئر ریاست ہیں بلکہ اپنی تمام تر دفاعی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ JF -17 ، الخالد ٹینک اور نیوی کی شپ بلڈنگ صلاحیت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستانی قوم اور ہماری بہادر مسلح افواج بدلتے وقت کے فنِ ضرب و حرب سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ ان سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لئے پُر عزم بھی ہیں۔ ہمیں صرف اپنی قوم پر یقین ، ریاست پر اعتماد اور صفوں میں اتحاد برقرار رکھنا ہوگا۔ ہمیں بحیثیت قوم تحمل ، برداشت اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ پرا پیگنڈہ اور ڈس انفارمیشن اور فیک نیوز کو حقائق سے تول کر رد کرنا ہو گا۔ ایک بے مثال قومی یکجہتی ہی ہمارے پر امن اور شاندار مستقبل کی ضمانت ہے۔ صدر مملکت نے شہداء اور غازیوں کی عظیم قربانیوں اور ان کے خاندانوں کی استقامت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کو یقینی بناتا ہوں کہ شہداء کے خاندانوں سے رابطے میں رہوں، آج صبح ہی میں نے باجوڑ میں شہید ہونے والے سپاہی جمال کے والد اور سپاہی ایاز کے بھائی سے بات کی۔ اس کے علاوہ ، ضلع کُرم میں شہید ہونے والے کیپٹن باسط علی شہید اور سپاہی حضرت بلال ،پسنی میں شہید ہونے والے کیپٹن عفّان مسعود اور گچک ، بلوچستان میں شہید ہونے والے کیپٹن کاشف شہید کے اہلِ خانہ سے بھی بات کی اور انہیں قوم کی خاطر اپنے پیاروں کی عظیم قربانی پر خراج ِ تحسین پیش کیا۔ ان شہداء کی بدولت ہی ہم آج خود کو محفوظ سمجھتے ہیں اور ہمارے ملک کا امن ان کی قربانیوں سے ہی وابستہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے بہادر افسر اور جوان ان شہداء کی طرح جذبہ ستمبر کو اپنے دلوں میں زندہ رکھتے ہوئے پاکستان کی سلامتی و تحفظ اور قوم کے خوشحال مستقبل کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ قبل ازیں   صدر مملکت نے یادگار شہداء پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔