لاہور۔18اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیربرائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے کہا کہ اقتدار کے لئے پاکستان تحریک انصاف باریو ں پر یقین نہیں رکھتی ،قانون کی مکمل عملداری کے لیے قانون سازی کرکے اقدامات کئے جا رہے ہیں ، شہباز شریف عدالت میں بہانے بنا رہے تھے کہ جلدی چھٹی دے دیں،اجلاس چار دن سے چل رہا تھا لیکن یہاں بہانہ کرکے چلے گئے یہ ان کی شو بازی کا ثبوت ہے کہ مقدمے کو طول دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پیر کے روز وزیراعلی آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر آمدن سے زائد اثاثے ، منی لانڈرنگ اور ٹی ٹی کا کیس ہے، مقدمے میں شہباز شریف کا نامہ اعمال1990سے شروع ہوتا ہے، اس وقت شہباز شریف کے اثاثے 2.1 ملین تھے،سیاست میں آنے کے بعد شہباز شریف کے اثاثے تیزی سے بڑھے ،2009تک شہباز شریف فیملی کے اثاثوں میں 66کروڑ کا اضافہ ہوا تھا ،اکیس لاکھ سے ان کا سفر شروع ہوا اور چند سالوں میں66کروڑ کا اضافہ ہوا ،2009کے بعد یہ اضافہ7 ارب تک چلا گیا ، اثاثوں میں اضافہ11 فیصد آمدن جبکہ باقی ٹی ٹی سے آیا اس کیس میں چار لوگ وعدہ معاف گواہ ہیں۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ بڑے میاں اور چھوٹے میاں کا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ احتساب ہے،عوام اب ان کے جھوٹے وعدوں میں نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ احتساب کے عمل کو بہتر کرنے کے لیے پورے نظام کو بہتر کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز شریف نے 181 ملین کی ٹی ٹی لگوائیں اور سلمان شہباز نے ڈیڑھ ارب روپے کی ٹی ٹی لگوائیں جبکہ اسے قرض ظاہر کیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ کیسیز اور ثبوت ہیں جو اس خاندان پر قابض ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف مقدمے کو طول دینے کی کوشش کررہے ہیں ،شہباز شریف اپنے آپ کو انٹرنیشنل صادق امین کہتے ہیں ،انہوں نے اس کیس میں بریت کی درخواست کیوں نہیں کی ،چیلنج کرتا ہوں کہ وہ عدالتوں میں مجھے لے جائیں ،یہ عدالتی نظام کے لیے چیلنج کیس ہے اتنی اچھی تفتیش ہوئی ہے تاریخ میں لکھا جائے گا ، عدالت میں کیسے چلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی مدت پوری ہونے تک امید ہے کہ موجودہ کیسز منطقی انجام تک پہنچ جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مہنگائی پوری دنیا کا مسئلہ ہے ،یہ انٹرنیشنل ٹرینڈ ہے ،کوئی بھی حکومت نہیں چاہے گی کہ وہ مہنگائی کرے اور غیر مقبول ہوجائے تاہم مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے حکومت عملی اقدامات کررہی ہے ۔











