لاہور 2 اکتوبر(اے پی پی): وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس میں کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے اجراء کے لئے فرد ملکیت کی فیس نہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ پنجاب میں کاشتکاروں کو ڈیجیٹل سبسڈی کے لئے 4لاکھ 72ہزار کسان کارڈجاری ہوچکے ہیں اور رواں مالی سال کے آخرتک10لاکھ کاشتکار وں کو کسان کارڈ کااجراء مکمل ہوجائے گا، صوبہ بھر میں کسان کارڈ کے 1590ان پٹ ڈیلر کام کررہے ہیں نیشنل پروگرام کے تحت گندم گنا اورچاول کی زیادہ پیداوار کے حصول کے پراجیکٹ بھی جاری ہیں اور ڈرپ اریگیشن،سولرائزیشن کے پراجیکٹ کا دائرہ کار بتدریج بڑھایاجارہاہےان کا کہنا تھا کہ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان پنجاب کی زرعی تاریخ کا انقلابی پروگرام ہےعلاوہ ازیں جنوبی پنجاب میں زیتون کی کاشت پر توجہ دی جائے گی۔
دوران اجلاس وزیر اعلی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ زراعت کے ریسرچرزنے گندم کی 31نئی اقسام متعارف کرائی ہیں گندم کی نئی اقسام میں پانی کی کمی اور بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے پنجاب میں کھجور کی نئی ورائٹی بھی متعارف کرائی گئی ہےپنجاب میں مکئی،گندم اور چاول کی اہداف سے زیادہ پیداوار حاصل کی گئی ہےزراعت توسیع کی ری سٹرکچرنگ اورآؤٹ سورسنگ کی جائے گی مزید براں یہ کہ چاول،گندم،گنا اور مکئی پر ریسرچ کے لئے سنٹرل آف ایکسیلینس مقرر کئے جائیں گے اجلاس میں وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی، وزیر لا ئیوسٹاک حسنین بہادر دریشک، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری ایگریکلچراور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔











