اسلام آباد،15اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کو وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے سابق فاٹا کی ترقی کے لئے 270 ارب روپے جاری کئے جاچکے ہیں، 10ویں این ایف سی کا اجرا ابھی نہیں ہوا، این ایف سی آئین کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے، حکومت کا اس کے فیصلوں میں کوئی عمل دخل نہیں مگر حکومت کی خواہش ہے کہ فاٹا کے عوام کو ترقیاتی فنڈز میں سے ان کا حصہ ملے جبکہ سپیکر نے توجہ مبذول نوٹس متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔
جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈاکٹر حیدر علی کے سابق فاٹا کے لئے خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ میں سے اضافی 3 فیصد حصہ مختص نہ کئے جانے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری خزانہ زین قریشی نے کہا کہ این ایف سی آئینی ادارہ ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ فیصلہ سازی میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ این ایف سی اس حوالے سے فیصلہ کرے۔ کابینہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جب تک این ایف سی اس کا فیصلہ نہیں کرتا اس وقت تک وفاقی حکومت خود فنڈنگ کرے گی۔ وفاقی حکومت اب تک تین سال میں 270 ارب روپے خرچ کرچکی ہے۔
توجہ مبذول نوٹس پر ڈاکٹر حیدر علی، ساجد خان اور جنید اکبر کے سوالات کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری زین قریشی نے کہا کہ 20 ۔ 2019 میں 97.6 ارب اور 21 ۔ 2020 میں 121.1 ارب روپے ریلیز ہو چکے ہیں جبکہ رواں سال وفاقی حکومت کی طرف سے قابل تقسیم محاصل میں سے 129.7 ارب روپ مختص کئے گئے جن میں سے 51 ارب سے زائد کی رقم ریلیز بھی ہو چکی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں زین قریشی نے کہا کہ دسویں این ایف سی ایوارڈ کا فیصلہ جب ہوگا تمام صوبوں کو اس میں فاٹا کے لئے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ اصولی طور پر یہ طے کرلیا گیا ہے کہ صوبے اس میں حصہ ڈالیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سابق فاٹا کے عوام کو ترقیاتی کاموں میں ان کا حصہ ملے۔
جنید اکبر خان نے مطالبہ کیا کہ اس توجہ مبذول نوٹس کو کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق اور صوبوں نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے۔ حاجی اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نے جس طرح فاٹا کے عوام کا خیال رکھا ماضی میں کسی نے نہیں رکھا۔ ہمارا بٹوارہ وفاق سے ہوا ہے اس لئے ہم صوبوں سے نہیں وفاق سے فنڈز مانگیں گے۔
قومی اسمبلی میں ایوان کی کارروائی جاری تھی کہ اس دوران پیپلز پارٹی کے رکن سید حسین طارق نے ایوان میں کورم کی نشاندہی کردی۔ سپیکر نے گنتی کا حکم دیا، گنتی کرنے پر کورم پورا نہ نکلا جس کے بعد سپیکر اسد قیصر نے کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کردیا ۔











