اوکاڑہ یونیورسٹی، مدارس اور یونیورسٹی تعلیم میں ہم آہنگی پیدا کرنے کےلیے کوشاں ہے؛ وائس چانسلرزکریاذاکر

6

 رینالہ خورد،25نومبر(اےپی پی): اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد زکریا ذاکر نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اس وقت دو بالکل مختلف تعلیمی نظام رائج ہیں ، ایک طرف مدرسہ کی تعلیم ہے اور دوسری طرف سکول، کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم ہے۔ اس کے باعث ملک میں طبقاتی تقسیم شدت اختیار کر رہی ہے، ہم اوکاڑہ یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے اس مشن پہ کوشاں ہیں کہ ان دونوں تعلیمی دھاروں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔

 ان خیالات کا اظہار اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد زکریا ذاکر نے سیرت چیئر ڈاکٹر زید لکھوی کی جانب سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ “معاشرے میں بڑھتے ہوئی تشدد کا حل سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں مختلف طبقات فکر سے منسلک جید علماء کرام کے علاوہ اساتذہ اور طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وائس چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم معاشرے میں ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کرنے کےلیے کوشش کریں اور اس وقت جب ہم اس یونیورسٹی کی نظریاتی بنیادیں رکھ رہے ہیں ، ہم معاشرے کے تمام طبقات اور مکاتب فکر کے نمائندگان سے مشاورت کے خواہش مند ہیں۔

سیمینار کے دیگر مقررین میں سے صاحبزادہ فضل الرحمن اوکاڑوی  کا کہنا تھا کہ ہم انسانی ہمدردی کے جذبے کو معاشرے میں پروان چڑھا کہ تشدد کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ مولانا اشفاق حبیب نے کہا کہ فرقہ وارانہ، مذہبی اور سیاسی تشدد کے خاتمے کےلیے منطقی مکلالمے شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ شیخ ابو نعمان بشیر نے کہا کہ اپنے اندر قوت برداشت پیدا کر کے تشدد کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ علامہ سید غلام شبیر نے تشدد کا حل قرآنی تعلیمات پہ عمل پیرا ہونے کو قرار دیا۔

شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ ڈاکٹر عبد الغفار  نےبتایا کہ ہم مدارس کے فارغ التحصیل طلباء کو یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں داخلے دے رہے ہیں۔ اوکاڑہ یونیورسٹی کے ممبر سنڈیکیٹ  ڈاکٹر زعیم الدین عابد لکھوی نے کہا کہ تشدد کے خاتمے کےلیے ہمیں اپنے اندر منطقی سوچ اور تدبر و تفکر کی عادت پیدا کرنا ہو گی۔

سیمینار کے اختتام پہ وائس چانسلر نے سیرت چیئر اور اور شعبہ علوم اسلامیہ کو ہدایت کی کہ وہ مذہبی علماء اور یونیورسٹی اساتذہ کے مابین باقاعدہ مکالمے کی ایک سیریز شروع کریں۔