سکھر،21نومبر(اے پی پی) : پاکستان انفارمیشن کمیشن کے چیف انفارمیشن کمشنر محمد اعظم نے کہا ہے کہ معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے اور پاکستان کا آئین اس کا ہر شہری کو بھرپور حق دیتا ہے۔
اتوار کو یہاں پریس کلب میں آگاہی تقریب کے دوران میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے چیف انفارمیشن کمشنر محمد اعظم، انفارمیشن کمشنرز فواد ملک اور زاہد عبداللہ نے معلومات تک رسائی اور اس کے آئینی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 19- اے کے تحت ہر شہری کو معلومات کے حصول کا حق ہے اور پاکستان کے شہری اس حق کے تحت اپنے بنیادی مسائل کو نا صرف حل کروا سکتے ہیں بلکہ اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ بھی لا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن کا قیام 2018 میں عمل میں لایا گیا اور تاحال سترہ سو کیسز و شکایات موصول ہوئیں جن میں سے ساٹھ فیصد کیسز کو کامیابی کے ساتھ نمٹایا جا چکا ہے جن میں سرفہرست اپیل وزیر اعظم ہاؤس کا توشہ خانہ کیس کی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ شہری اپنے مسائل اور کرپشن کے حوالے سے کسی بھی محکمے سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور اگر وہ ادارہ انکے ساتھ تعاون نہ کرے تو وہ براہ راست کمیشن سے رجوع کرکے درکار معلومات حاصل کرسکتے ہیں جو کہ انکا بنیادی، آئینی اور قانونی حق ہے۔
اس موقع پر مقررین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان انفارمیشن کمیشن وفاقی سطح پر اور سندھ کے علاوہ تمام صوبوں میں مؤثر انداز میں مصروف عمل ہے جبکہ سندھ میں اس وقت کمیشن موجود نہیں جس کا قیام آئین کے مطابق سندھ حکومت کی زمہ داری ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ معلومات کی رسائی کے لیے وہ کسی بھی وقت کمیشن سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اس ملک کو کرپشن سے پاک اور مسائل کا حل یقینی بنا سکتے ہیں۔











