چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و فنی تربیت  کا اجلاس

22

اسلام آباد۔12نومبر  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و فنی تربیت نے ہائرایجوکیشن کمیشن کی طرف ٹیکنالوجسٹ و انجینئرز کے سروس سٹرکچر اور ایکٹ کی تیاری میں تاخیری حربے اپنانے کے عمل پر شدید تحفظات کااظہار کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو فنڈز پرووائیڈنگ ایجنسی کے کردار سے نکل کر شعبہ اعلیٰ تعلیم میں نکھار لانے کیلئے پرو ایکٹو روول ادا کرنے کی ہدایت کی ہے ، کمیٹی نے اس موقع پر ملک بھر کی پبلک سیکٹر جامعات کے سکالرز کی طرف سے لکھے جانے والے ریسرچ جنرلز کوجانچنے کیلئے تین رکنی سب کمیٹی بھی تشکیل دی جو تمام پبلک سیکٹر جامعات کے جاری کردہ ریسرچ جنرلز بابت رپورٹ مرتب کرے گی۔کمیٹی کااجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان صدیقی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔دوران اجلاس ہائر ایجوکیشن کمیشن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیشن کے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی طرف سے ملک بھر کی پبلک سیکٹر جامعات کے تازہ ترین کئے گئے موازنے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کی لیڈنگ پبلک سیکٹر جامعات کا معیار تعلیم گر رہا ہے ۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بتاےا کہ مالی سال 2018-19کے حاصل کرداہ ریکارڈ کےمطابق ملک بھر کی 119پبلک سیکٹر جامعات میں 32لیڈنگ جامعات کا معیار تعلیم کم ہوا ہے ۔معیار تعلیم کی گرانی کا شکار جامعات میں جامعہ کراچی، قائداعظم یونورسٹی سمیت دیگر شامل ہیں۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ ملک بھر کی کل 119 پبلک سیکٹر جامعات میں سے 18جامعات نے کمیشن کے مطالبہ پر مطلوبہ ریکارڈ ہی فراہم نہیں کیا۔کمیٹی کی سنگل نیشنل کریکولم پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکسٹ بک پبلشرز ایسوسی ایشن کے صدر فواذ نیاز نے بتایا کہ سنگل نیشنل کریکولم جس پر ابھی تک مکمل طور پر عمل درآمد بھی مکمل نہیں ہوا اب اس کو تبدیل کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں ۔پہلے بتایا گیاتھا کہ نصاب کا نیا تیار کردہ ماڈل آخری درجہ معیار پر پورا اترے گا لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ نیا تیار شدہ نصاب کم سے کم معیار جانچنے کیلئے ہے ۔پرائیویٹ پبلشر جو کہ حکومتی ماڈل کو لیکر اپنا نصاب پبلش کرتے ہیں انہیں مذکورہ نصاب کی پرنٹنگ کیلئے تمام اکائیوں سے علیحدہ علیحدہ این او سی لینا پڑ رہا ہے ۔اگر نصاب ایک کر دیا گیا ہے تو اس کی مانیٹرنگ باڈی تاحال ایک کیوں نہیں بن سکی ۔پرائیویٹ ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کی چیئرپرسن ضیاءبتول نے کمیٹی شرکاءکو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اس وقت فقت33نفوس کی ٹیم سے وفاق بھر کے پرائیویٹ سیکٹر کو رجسٹرڈ و ریگولیٹ کرنے کی زمہ داری نبھا رہی ہیں ۔پیرا نے نئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو رجسٹریشن جاریکرنے کی معیاد 90دن مقرر کر دی ہے پہلے نئی رجسٹریشنز کے کیسزز دس ،دس سال تک التوا کا شکار رہتے تھے۔پیرا نے پرائیویٹ سکول مالکان اور والدین کی شکایات کے ازالے کیلئے تحفظات سیل کو قیام عمل میں لایا ہے۔اجلاس میں اراکین کمیٹی سینیٹر مہر تاج روغانی،اعجاز احمد چوہدری،فوزیہ ارشد،فلک ناز،جام مہتاب حسین داہڑ،رانا مقبول احمد،مشتاق حمد خان اور مولوی فیاض محمد کے علاود پارلیمانی سیکرٹری ایجوکیشن وجیہہ قمر،سیکرٹری ایجوکیشن ،ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن،ای ڈی ایچ ای سی ،ایڈوائزر ایچ اسی، وائس چانسلر نیشنل ٹیکنیکل یونیورسٹی، چیئر پرسن نیشنل ٹیکنا لوجسٹ کونسل،اور ایس این سی حکام نے شرکت کی ۔