چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ  کا اجلاس

59

اسلام آباد۔19نومبر  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ  نے اسلام آباد بھر کا دورہ کرکے غیر قانونی قبضوں، تعمیرات اور ماسٹر پلان کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے اور متعلقہ اداروں سے جواب طلبی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کمیٹی نے اسلام آباد میں کھوکھوں کو بحال کرنے کے حوالہ سے وزارت داخلہ سے 15 دن میں رپورٹ طلب کر لی، کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں کچی آبادیوں کو بلند و بالا عمارتوں میں منتقل کیا جا رہا ہےاور مکینوں کیلئے کم لاگت اپارٹمنٹس بنائے جا رہے ہیں، قائمہ کمیٹی نے ناظم جوکھیو اور فہمیدہ سیال کے قتل کے معاملہ پر آئی جی سندھ کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر مشتا ق احمد خان کے اسلام آباد کیپٹل ٹریٹری ٹرسٹ ترمیمی بل 2020، سینیٹر شہادت اعوان کے کوڈ آف کریمینل پروسیجر ترمیمی بل 2021، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر سردار محمد شفیق ترین کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے پی ایم سی کے امتحان کے خلاف کوئٹہ کے طالب علموں کے احتجاج، سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں پیش کئے گئے ۔قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ  وزیر داخلہ آئندہ اجلاس میں اپنی شرکت یقینی بنائیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ قائمہ کمیٹی داخلہ نے 18 اکتوبر2021 کو ہونے والے اجلاس میں اسلام آباد انتظامیہ، سی ڈی اے اور ایم سی آئی کو ڈینگی کے پھیلاؤ کے تدارک کے حوالے سے اقدامات اٹھانے اور ہفتہ وار رپورٹ فراہم کرنے کی سفارشات دی تھیں اور اس حوالے سے تین ریمائنڈر بھی جاری کیے گئے مگر   ادارے پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی نہیں بناتے وہ طریقہ کار بتایا جائے جس کی بنیاد پر ادارے عملدرآمد یقینی بنائے۔جس پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ نے کہا کہ جن اداروں نے قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا ان سے وضاحت طلب کی جائے گی اور سفارشات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔  قائمہ کمیٹی کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات اور سی ڈی اے حکام نے ڈینگی کے پھیلاؤ اور تدارک کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات بارے تفصیلی آگاہ کیا۔ ڈی سی اسلام آباد نے معذرت کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایم سی آئی کا چارج دو دن پہلے لیاہے۔ قائمہ کمیٹی کو تمام رپورٹس فراہم کر دی جائیں گی اور جنہوں نے کوتاہی برتی ہے ان سے بھی رپورٹ لی جائے گی۔ ڈینگی کنڑول کیلئے 46 ٹیمیں بنا کر تدارک کیلئے اقدامات اٹھائے گئے۔ اسلام آباد اور دیہی علاقوں میں موثر کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں ر وزانہ کی بنیاد پر آنے والے کیسز کی تعداد جو 140 تک پہنچ گئی تھی سے کم ہو کر 20 تک ہو گئی ہے۔ ڈینگی کنڑول کے حوالے سے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس کے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر مشتا ق احمد خان کے اسلام آباد کیپٹل ٹریٹری ٹرسٹ ترمیمی بل 2020کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیزنے کہا کہ بل کا پہلے بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔قائمہ کمیٹی کو وزارت داخلہ اورکمشنر اسلام آباد کے حکام نے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ قائمہ کمیٹی نے بل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کثرت رائے سے بل کو مسترد کر دیا۔  سینیٹر شہادت اعوان کے کوڈ آف کریمینل پروسیجر ترمیمی بل 2021کا قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اس بل کے حوالے سے تمام صوبوں نے اتفاق کا اظہار کیا ہے اور کمیٹی کے گزشتہ اجلاسوں میں تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ ترمیم کے ساتھ قائمہ کمیٹی بل کو متفقہ طور پر منظور کرتی ہے۔  سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر سردار محمد شفیق ترین کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے پی ایم سی کے امتحان کے خلاف کوئٹہ کے طلب علموں کے احتجاج کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ ایس پی لیگل صوبہ بلوچستان نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک سپریم ادارہ ہے۔پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کو آئی جی یا ایڈیشنل آئی جی کو بریف کرنا چاہیے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ ایس پی لیگل کا اس معاملے سے تعلق بھی نہیں بنتا۔قائمہ کمیٹی نے معاملہ آئندہ اجلاس تک موخرکرتے ہوئے آئی جی بلوچستان اور متعلقہ افسران کو طلب کر لیا۔ سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں پیش کئے گئے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ بارشوں سے ایک ہفتہ پہلے محکمہ موسمیات سے واضح پیشن گوئی کردی گئی تھی مگر متعلقہ اداروں نے اس حوالے سے تیاری نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ ای الیون کے سیکٹر میں پانچ سوسائٹیاں بنی ہیں جن کو سی ڈی اے نے لائسنس دیئے ہوئے ہیں وہاں سے ایک نالہ گزرتا ہے جو شروع سے 80 فٹ کا ہے مگر یہاں پہنچ کر 20 فٹ کارہ جاتا ہے جس کی وجہ سے سٹرکوں پر پانی کھڑا ہو جاتا ہے اور بارش کا پانی ریلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ای الیون سیکٹر میں لوگوں کو تدفین کی اجازت بھی نہیں اور سوسائیٹوں میں غیر قانونی بلند وبالا عمارتیں تعمیر کر لی گئی ہیں۔ جس پر سی ڈی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں 150 کے قریب نالے ہیں جن کو کوڑا کرکٹ سے بھر دیا گیا تھا ان کی صفائی کا عمل جاری ہے۔ ای الیون سیکٹر میں پرائیوٹ ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں سی ڈی اے مداخلت نہیں کر سکتا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہاکہ کسی بھی سوسائٹی کا لے آؤٹ سی ڈی اے منظور کرتا ہے، لوگوں کی زندگیوں کا سوال ہے۔ نالے تنگ کرنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ ای الیون میں ایک بڑا گڑھا کھودا گیا ہے اور کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔آس پاس کے گھر اس کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں۔سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ جب لوگ غیر قانونی قبضے اور تعمیرات شروع کرتے ہیں متعلقہ محکموں کو علم ہوتا ہے وہ بروقت تدارک کیلئے اقدامات کیوں نہیں اٹھاتے۔ متعلقہ ادارے اس جرم برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ انہیں اتنی ہی سزا ملنی چاہیے اور ایسے لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی پورے اسلام آباد کا دورہ کرے گی اور اراکین کمیٹی کی جانب سے اٹھائے گئے تمام تحفظات کو دور کر نے کیلئے متعلقہ اداروں سے جواب طلب کر ے گی۔جہاں اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں خلاف ورزی کی گئی ہے ان کا بھی جائزہ لیا جائے۔ جس پر قائمہ کمیٹی کو بتایاگیا کہ ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کا جائزہ لینے کیلئے ایک جائزہ کمیشن بنایا گیا ہے جو جائزہ لے رہا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے ای الیون کے مسائل کے حوالے سے متعلقہ محکموں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ سینیٹر کامران مرتضی کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے سوال برائے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں ڈھابوں اور کھوکھوں کی الاٹمنٹ کے معاملے کا کمیٹی اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ڈھابوں اور کھوکھوں سے ہزاروں لوگوں کا روزگار منسلک ہے اور جہاں مجبوری نہ ہو تمام کھوکھوں کوبحال ہونا چاہیے یہ ایک بہت پرانا مسئلہ ہے جس پر قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کھوکھے اور ڈھابے بہت پہلے سے بنائے گئے تھے تاکہ لوگوں کو سستا کھانا میسر ہوسکے۔ 2007 میں کھوکھے الاٹ  کئے گئے جنہیں 2013 میں کینسل کر دیا گیا۔ اسلام آباد میں سی ڈی اے  کے لائسنس  یافتہ 485 کھوکھے ہیں۔2018 میں انہیں بحال کیا گیامگر پھر ایم سی آئی نے انہیں گرانا شروع کر دیا۔ یہ معاملہ دو دفعہ کیبنٹ میں اٹھایا گیا اور ایک کمیٹی بھی بنائی گئی۔ڈی سی اسلام آباد نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ میں زیر غور ہے اس سے کافی لوگوں کو فائدہ ملتا تھا۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت داخلہ سے 15 دن کے اندر کھوکھوں کو خوبصورت بنانے اور بحال کرنے کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ نے کہا کہ وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ سے مشاورت کر کے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ سینیٹر فوزیہ ارشد کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس برائے اسلام آباد کے سیکٹر I-12میں سی ڈی اے کی جانب سے ترقیاتی کام نہ کرنے کے معاملے کا کمیٹی اجلا س میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر فوزیہ عباسی نے کہا کہ سیکٹر I-12کی ڈویلپمنٹ کا پی سی ون 14 ہزار ملین کا تھا جو اب 84 ہزار ملین کاہوچکا ہے۔ اس میں پانچ بڑی سڑکیں 2015 میں 9 ماہ کے اندر تعمیر کرنی تھیں مگر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ڈویلپمنٹ کی پراگرس بھی صرف25 فیصد سے بھی کم ہے۔ لوگ خوار ہو رہے ہیں اگر موثر حکمت عملی کے ساتھ کام کیاجاتا تو نہ صرف قومی خزانے ضیاع نہ ہوتا بلکہ لوگوں کوموثر سہولیات بھی میسر ہوتی۔ اداروں کی نا اہلی کیوجہ سے غیر ضروری زمینوں پر قبضے کئے گئے جو اب جرائم کاگڑھ بن چکے ہیں۔ہزاروں لوگ بہتری کے انتظار میں ہیں۔جس پرکمیٹی کو بتایا گیا کہ سیکٹر I-12کے دو سیکٹرزمیں ڈویلپمنٹ کا کام ہوگیااور دو میں جاری ہے۔30،30 برسوں سے کام روکا ہوتا تھا معاملات کو حل کرنے میں ٹائم لگا ہے۔ کچی آبادیوں کو بلند و بالا عمارتوں میں شفٹ کیاجارہا ہے۔کم لاگت اپارٹمنٹس بنائے جا رہے ہیں۔ فراش ٹاؤن میں دو کچی آبادیاں شفٹ کر دی گئی ہیں۔ دس کچی آبادیوں میں سے چار کومزید بھیجنا ہے دو شفٹ ہو چکی ہیں۔بہتر ی کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔وزارت داخلہ کی جانب سے ریئل اسٹیٹ کے معاملے کے حوالے سے ایڈیشنل سیکرٹری نے بتایاکہ ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔12 درخواستیں آ چکی ہیں معاملے کو جلد حل کرلیاجائے گا۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ معاملے کو جلد ازجلد مکمل کر کے رپورٹ فراہم کی جائے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا معاملہ اٹھایا جس پر چیئرمین کمیٹی نے ایف آئی اے حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔سینیٹر شہادت اعوان نے کمیٹی اجلاس میں معاملہ اٹھایا کہ صوبہ بلوچستان کے کچے کے علاقے میں غیر قانونی قبضے کے معاملے پر تین نوجوانوں کو قتل کردیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ناظم جوکھیواور فہمیدہ سیال کے قتل کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ میں قتل اور امن وامان کے حوالے سے آئی جی سندھ کو طلب کیا گیا تھا مگر ایک دفعہ بھی وہ کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں آئی جی سندھ کو طلب کرلیا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے صومالیہ سے تعلق رکھنے والی خاتون کو ویزا دینے کا معاملہ اٹھایا۔ قائمہ کمیٹی نے اس حوالے سے متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کر لی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے اسلام آباد کے پولی کلینک میں فضلہ مادہ جلانے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ پورے سیکٹر میں فضائی آلودگی کا اضافہ ہو رہا ہے اور رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈی سی اسلام آباد اس حوالے سے متعلقہ ہسپتال کی انتظامیہ سے معاملہ اٹھائیں تاکہ لوگوں کو صاف ستھری فضا میسر ہو سکے۔ اراکین کمیٹی نے بھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں کو صاف ستھری فضا فراہم کرنا ہم سب کافرض ہے ہسپتال اس حوالے سے موثر انتظامات کرے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر محمد طلحہ محمود،سینیٹر دلاور خان،سینیٹر فوزیہ ارشد، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر مشتاق احمد اور سینیٹر سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ڈی سی اسلام آباد، سی ڈی اے و دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔