کوئٹہ،27دسمبر(اے پی پی): صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں معاشی، سماجی و اقتصادی ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ حکومت بلوچستان اس مد میں تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے اور صوبے کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کا مذکورہ ہدف کے حصول میں ایک اہم کردار ہے، خاص طور پر عوامی انفراسٹرکچر اور سہولیات کی فراہمی سمیت دیگر شعبوں کی مجموعی بہتری و انکے فروغ میں ہمیشہ معاون ثابت ہو گا۔
یہ بات انہوں نے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پالیسی 2021 کا باقاعدہ اجراءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا،ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات حافظ عبدالباسط،سربراہ گورننس پالیسی پروجیکٹ راشد رزاق، سمیت کوئٹہ چیمبر آف کامرس، کاروباری حضرات، صوبائی سیکریٹریوں سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میرظہور احمد بلیدی، چیف سیکریٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات حافظ عبد الباسط نے سٹریٹجک پلاننگ اینڈ ریفارمز سیل (SPRC) کے رفیع اللہ کاکڑ اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے متعلقہ ٹیم کی اقدامات کو سراہا اور کہا کہ یہ پالیسی حکومت بلوچستان اور اس سے منسلک تمام اسٹیک ہولڈرز کے اشتراک کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا جس میں حکومت نجی شعبے سے باہمی شراکت داری کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے اور مستقبل قریب میں فروغ دینے کے لیے ضروری اور اہم شعبوں میں اصلاحات اور اقدامات کو وسعت دے گا، صوبے میں روزگار اور انفراسٹرکچر سمیت انویسٹمنٹ و ترقیات میں بھی مربوط انداز میں نئے زرائع ابھریں گے۔
مقررین نے اس اہم پالیسی کے خد و خال بیان کرتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی فریم ورک کی تیاری اور تکنیکی معاونت کی قیادت محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے سر انجام دی جس میں سٹریٹجک پلاننگ اینڈ ریفارمز سیل (SPRC) قابل زکر ہے۔ اس پالیسی کی تیاری میں مالی معاونت ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ (MDTF) سے فراہم کی گئی، جو کہ ورلڈ بینک کے زیر انتظام ہے اور گورننس اینڈ پالیسی پروجیکٹ کے ذریعے عمل میں لایا گیا ہے۔
تقریب کے اختتام پر پرائیویٹ سیکٹر سے وابستہ ماہرین اور سرمایہ کاروں نے اپنی تجاویزات اور آرا سے بھی آگاہ کیا اور اس پالیسی کو حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک سنگ میل قرار دیا۔











