بوسنیا کے دارالحکومت سراجیوو  میں” انسانیت کے خلاف جرائم” کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

48

اسلام آباد،21 دسمبر(اے پی پی ):بوسنیا کے دارالحکومت سراجیوو  میں انسانیت کے خلاف جرائم” کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بین الاقوامی تنظیموں “روسل ٹریبونل اور  سول سوسائٹی کی تنظیم کشمیر سیویٹاس اور باتعاون پیپلز ٹریبونل بولونگنااٹلی، انٹرنیشنل یونیورسٹی (سارا یہ وہ) سراجیوو اور سنٹر فار ایڈوانس اسٹڈیز کے زیراہتمام منعقد ہوئی جس کا مقصدمقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری نسل کشی سمیت انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کو اجاگر کرناتھا۔

کانفرنس کے دوران “انسانیت کے خلاف جرائم” کے عنوان سے مباحثے کے پینل کے دوران نظامت کے فرائض بزرگ کشمیری دانشور ڈاکٹر غلام نبی فائی نے انجام دیئے۔ پینل کے دیگر شرکا ءمیں چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید، ڈاکٹر امیر سولجایگیک، دانیال عبیداللہ، ایمبسیڈر ملک ندیم اور نوید شیخ شامل تھے۔ مباحثے کے دوران مختلف ملکوں کے سکالرز، ماہرین اوردانشور شریک ہوئے اور کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجی ماورائے عدالت قتل عام، نوجوانوں کی جبری گم شدگیوں، خواتین کی بے حرمتی، مظاہرین پر براہ راست گولی اور پیلٹ گن استعمال کرنے اور بغیرکسی مقدمہ درج کئے کشمیریوں کو حراست میں رکھنے جیسے جرائم میں ملوث ہیں۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو  نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی تشدد، جنسی تشدد، قتل عام، جبری گمشدگیوں، لوگوں کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ زبردستی منتقل کرنے میں ملوث ہیں اور یہ تمام جرائم بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ انھوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خرم پرویز اور انسانی حقوق کے دیگر کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں اور سیاسی ورکروں کی رہائی کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے۔

رسل ٹریبونل نے ان جرائم کے خاتمے پر زور دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی، ان پر وحشانہ جارحیت، اور مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم اور کشمیری تنازعے کی وجہ سے خطے میں ایٹمی جنگ کے خطرات درپیش ہیں۔

 ٹریبونل کا مقصد عالمی برادری کی چار اہم موضوعات کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا جس میں تنازعہ کشمیر کی سنگینی کو اجاگرکیاگیا اورجموں کے قتل عام پربحث سمیت نسل کشی، نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ اور غیر ریاستی باشندوں کی آبادکاری پر خصوصی توجہ دلوانا تھی ۔ اس کے علاوہ انسانیت کے خلاف جرائم اورخطے میں جوہری جنگ کے خطرے ،اجتماعی قبروں اورعصمت دری کو جنگی ہتھیارکے طورپر استعمال کرنے جیسے مسائل کو بھی اجاگر کرنا تھا۔