حیدرآباد۔14دسمبر (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے زیرمیزبانی سہ روزہ عالمی زولوجیکل کانگریس شروع ہو گئی ہے، نامور سائنسدان، ماہرین اور ملکی اداروں کے مندوبین نے شرکت کی، سائنس میں نمایاں کام سرانجام دینے والے سائنسدان، ماہرین اور ملکی جامعات کے امتیازی کارکردگی سرانجام دینے والے اسکالرز میں شیلڈ اور گولڈ میڈل بھی تقسیم کئے گئے۔ سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کی زیرمیزبانی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے 40 ویں سہ روزہ عالمی زولوجیکل کانگریس اور پہلی ملکی ورچوئل زولوجیکل کانگریس شروع ہوگئی ہے، جس کی معاونت زولوجیکل سوسائٹی آف پاکستان کر رہی ہے، کانگریس کی افتتاحی تقریب سندھ زرعی یونیورسٹی کے ڈاکٹر اے ایم شیخ آڈیٹوریم ہال میں منعقد کی گئی جس میں انٹرنیشنل سینٹرآف کیمیکل اینڈ بایئولوجیکل سینٹر (آئی سی سی بی ایس) کے ڈائریکٹر اور کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری مہمان خاص تھے جبکہ سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری، زولوجیکل سوسائٹی آف پاکستان کے صدر ڈاکٹر اے آر شکوری اور عبدالعزیز خان، شہید بےنظیر بھٹو یونیورسٹی آف وٹرینری اینڈ اینمل سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد فاروق حسن سمیت ملک بھر سے زرعی ماہرین اور زولوجی شعبہ سے وابستہ اسکالرز نے شرکت کی، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ زولوجی سائنس کا ایک اہم حصہ ہے جوکہ انسان، جانور، پودوں سمیت پورے ایکالوجی پر اثرانداز ہوتا ہے اور پوری دنیا میں اس ضمن میں کافی تحقیق ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کووڈ کے دوران سائنسدانوں نے تحقیق کی شروعات کی اور مارچ 2020 میں ویکسین دریافت کی، انہوں نے کہا کہ بائیو سائنس کے ذریعے تمام جیوت کیلئے حیاتیاتی حل نکالا جاتا ہے اور زندگی بچانے کیلئے علاج، صحت بخش خوراک کیلئے کام کیا جاتا ہے، نسلوں کی ترقی اور ایک انسان کی لمبی اور صحت مند عمر پر تحقیق ہو رہی ہے، پاکستان سائنس فائونڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد محمود بیگ نے اپنے آن لائن خطاب کے دوران کہا کہ توانائی کے بحران، اقتصادی اور ماحولیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ تمام مسائل کے حل کے لیے معیاری سائنس کی تعلیم کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے کہا پاکستان میں معاشی اور ماحولیاتی مسائل کے حل کیلئے تمام شعبوں سے منسلک ماہرین کو اپنی تحقیق کے نئے موضوعات کو اہمیت دینا ہوگی، انہوں نے کہا ہم ملک میں زرعی بیج، لائیو اسٹاک کی بریڈنگ، بارانی، صحرائی اور سیم زدہ علاقوں میں زراعت کو یقینی بنانے کیلئے تحقیق کو توسیع دے رہے ہیں، پاکستان زولوجیکل سوسائٹی کے صدر اے آر شکوری نے کہا اسکالرز کو اپنی تحقیق کو شائع کروانا چاہیے ۔











