سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کی زیر میزبانی سوائل سائنس ڈے منایا گیا

101

حیدرآباد  6 دسمبر (اے پی پی): سندھ زرعی یونیورسٹی کے زرعی اور سوائل کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زمین میں نمکیات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقدار غذائی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے اور زرعی زمین میں مختلف اسباب کی وجہ سے بڑھتی ہوئی نمکیات سے ملک کی زرعی پیداوار پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کی زیر میزبانی اور سوائل سائنس سوسائٹی آف پاکستان، سوائل سائنس ڈپارٹمینٹ اور فارم ایڈوائزری سینٹر (ایف ایف سی) کے مشترکہ تعاون سے سوائل سائنس ڈے منایا گیا، جبکہ اس موقع پر شعبہ سوائل سائنسز سے ڈاکٹر اے ایم شیخ آڈیٹوریم ہال تک آگاہی ریلی بھی نکالی گئی، اس موقع پر ڈاکٹر اے ایم شیخ آڈیٹوریم ہال میں “زمین میں نمکیات کو روکیں، نمکین مٹی میں پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کی وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافہ، زیر زمین پانی کے معیار اور سمندری مداخلتیں زرعی زمین میں نمکیات کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ہے، انہوں نے کہا کہ زمین کی کھارے پن کو کم کرنے پر توجہ دینے کے ساتھ نمکیات سے متاثرہ زمین پر فصل کی کاشت پر تحقیق کو تیز کیا جائے۔