اسلام آباد، 28 دسمبر(اے پی پی): نیشنل واٹر پالیسی کی سٹیئرنگ کمیٹی کا دوسرا اجلاس منگل کو یہاں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الہٰی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی روشنی میں کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا ۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر مونس الہٰی نے وزارت آبی وسائل کے جوائنٹ سیکرٹری (واٹر) کی سربراہی میں ایک کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی جس میں ارسا کے اراکین، ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور محکمہ آبپاشی کے صوبائی سیکریٹری شامل ہوں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر آبی وسائل نے واٹر سیکٹر کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ملک کی معاشی ترقی کے اہداف کے حصوص اور پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے قومی آبی پالیسی کے نفاذ کی اہمیت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر مونس الہٰی نے قومی آبی پالیسی کے فریم ورک پر عملدرآمد کے بارے میں ستمبر 2021 میں سٹیئرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور وزارت کی طرف سے عملدرآمد کے لائحہ عمل کی تیاری کیلئے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اپنی سفارشات پیش کریں۔ اسٹیک ہولڈرز کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے منصوبہ بندی و ترقیاتی کے محکموں کے ذریعے سفارشات بھجوائیں۔
اجلاس میں آزاد کشمیر حکومت کی درخواست کا بھی جائزہ لیا جس میں منگلا سے 614 کیوسک پانی کی فراہمی کے بارے میں فیصلے کیلئے کہا گیا ہے تاکہ کشمیر اور اس کے اردگرد واقع علاقے بھی زیر کاشت لائے جا سکیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو تجویز کیا کہ حکومت آزاد کشمیر مزید ضروری کارروائی کیلئے وزارت آبی وسائل کو ایک ریفرنس بھیجے۔
اجلاس کے اختتام میں وفاقی وزیر مونس الہٰی نے وزارت آبی وسائل کی جانب سے تین ماہ کی مختصر مدت میں قومی آبی پالیسی کی سٹیئرنگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس کے انعقاد کیلئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے شراکت داروں باالخصوص صوبوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اسی جذبے پر عمل کریں اور قومی آبی پالیسی کے نفاذ میں اپنا بہترین تعاون فراہم کریں۔
اجلاس میں وزارت آبی وسائل، PD&SI کے وفاقی سیکرٹریوں، فنانس ڈویژن، نیشنل فوڈسیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے نمائندوں، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخواہ کی حکومتوں کے زراعت و آبپاشی کے محکموں کے صوبائی سیکرٹریوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے نمائندوں کے علاوہ واپڈا، سرویئر جنرل آف پاکستان، ارسا، فلڈ کمیشن اور پاکستان کمشنر برائے انڈس واٹر کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔











