تشدد اور انتہا پسندی کے واقعات کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے، خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے؛ چوہدری فواد حسین

31

جہلم ،29جنوری  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ تشدد اور انتہا پسندی کے واقعات کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے، خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے، سینٹ میں اپوزیشن کی شکست عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بلوچستان میں پاک فوج کے شہید جوانوں کی فیملیوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے بہادر سپاہیوں نے مادر وطن کے لئے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا، پاکستان کا ہر فرد پاک فوج کے شہید جوانوں  کا احسان مند ہے، ہم ان کی قربانیوں کا مداوا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھائیں، پوری قوم ان شہیدوں کے والدین اور ان کی فیملیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کے پیچھے گہری سازش ہے، ہمارے شہید جوانوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی دشمنوں کو ناکوں چنے چبھوائے تھے، اب بھی ان کے خلاف کارروائی کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان توڑنے کی بات کرنے والوں کے لئے واضح پیغام ہے کہ پاکستان انشاء اللہ تاقیامت قائم رہے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، اپنے شہید جوانوں کے خون کا پورا حساب لیا جائے گا۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، ہم نے معاشی استحکام حاصل کیا ہے، ہمیں لٹی پٹی معیشت ورثہ میں ملی تھی، جب عمران خان وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا رہے تھے تو ہمارے پاس وسائل نہیں تھے، معیشت کا برا حال تھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اینڈ کمپنی نے ملکی معیشت کا جو حشر کیا اس کی گواہی اس کے وقت کے ان کے اپنے وزیر خزانہ نے دی۔ اسحاق ڈار اور نواز شریف دونوں نے مل کر معیشت کا بیڑہ غرق کیا، ہم اسے نہیں بھول سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے معیشت کی دوبارہ بنیاد رکھی، آج 100 بڑی کمپنیوں کا منافع 929 ارب روپے ہے، میڈیا ہائوسز کے منافع میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، کچھ میڈیا ہائوسز نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے، باقی اداروں اور کمپنیوں سے بھی گذارش ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔

وفاقی  وزیر  نے کہا کہ آج ملک میں زراعت سمیت صنعتیں اپنے پائوں پر کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں کہرام مچانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ سینیٹ میں اپوزیشن کو نام نہاد برتری حاصل تھی، اس برتری کے باوجود اپوزیشن گزشتہ روز ناکام ہوئی۔ اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت کو بھرپور طریقے سے اکثریت حاصل ہے۔

 چوہدری فواد حسین نے کہا کہ عمران خان کے آگے اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کر بھی ڈھیر ہیں، تمام سیاسی جماعتوں میں عمران خان کے قد کا کوئی لیڈر نہیں، ن لیگ اور اپوزیشن کی دیگر جماعتیں چوں چوں کا مربع ہیں، جس طرح انہیں سینیٹ میں شکست ہوئی، یہ سلسلہ آگے بھی نظر آتا رہے گا۔ وزیراعظم کے دورہ چین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ چین سے پاکستان اور چین کے مابین روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم آئندہ چند ماہ کے دوران مزید غیر ملکی دورے بھی کریں گے، ان دوروں سے عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت مزید اضافہ ہوگا اور خارجہ پالیسی کو استحکام ملے گا۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ رواں سال پاکستان کی کامیابیوں کا سفر جاری و ساری رہے گا۔

 ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک کو بلاول اور مریم کے حوالے نہیں کیا جا سکتا، مریم اور بلاول کا قد نہیں کہ وہ قومی لیڈر بن سکیں، انہیں چاہئے کہ وہ پہلے میئر کا الیکشن لڑیں، پاکستان میں بادشاہت کا نظام نہیں ہے کہ یہ لوگ براہ راست آ کر گدی پر بیٹھ جائیں گے، یہ سیاسی نومولود اپنی سینئر قیادت کے لئے پوزیشنز خالی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے اندر بھی تبدیلی کی بحث چل رہی ہے، ن لیگ کے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ شریف فیملی کی جگہ نئے لوگوں کو آنا چاہئے۔ ایسی بحث پی پی پی کے اندر بھی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور بلاول اگر جمہوری عمل کے ذریعے اوپر آئیں گے تو یہ ان کا حق ہے، اس کے بغیر اوپر آئیں گے تو یہ زیادتی ہوگی۔

 ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی نہ پارلیمان کے اندر اور نہ باہر قدر ہے۔ انہوں نے حکومت کے خلاف ساتویں مرتبہ تحریک چلانے کی کوشش کی۔ اپوزیشن کو مولانا فضل الرحمان کے مدرسوں کے بچوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، مولانا فضل الرحمان کی مدرسوں کے بچوں کو سیاست میں استعمال کرنے کی ریت بہت پرانی ہے، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان بچوں کی بنیاد پر وہ حکومت کے خلاف تحریک چلا لیں گے تو ایسا ممکن نہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے۔ مریم نواز اور نواز شریف سے ہمارا ذاتی جھگڑا نہیں ہے، ہم ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانا چاہتے ہیں۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ جو لوگ نواز شریف سے ان کے مہنگے اپارٹمنٹس میں ملاقاتیں کرتے ہیں نواز شریف ان اپارٹمنٹس کا انکار کر رہے ہیں کہ یہ اپارٹمنٹس ان کے نہیں ہیں۔ نواز شریف کے ماہانہ کروڑوں روپے کے اخراجات ہیں اور ان کے اگر ٹیکس کا موازنہ کیا جائے تو ان کے پاس دولت غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت نے نواز شریف کی ویزا میں توسیع کی دو اپیلیں مسترد کر دی ہیں، عدالتی معاملات میں وقت لگتا ہے، اس لئے ابھی سے انہوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ پاکستان آ رہے ہیں کیونکہ نواز شریف کو پتہ ہے کہ انہیں مزید موقع نہیں ملے گا، انہیں واپس آنا ہوگا۔

 ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن کے لوگ ایک دوسرے کی تاڑ میں لگے ہیں کہ آنکھ جھپکے اور دوسرا فائدہ حاصل کرلے، ہمیں تو اس بات کی فکر ہے کہ یہ ایک دوسرے کے کپڑے نہ پھاڑ لیں۔ اپوزیشن کا پارلیمان میں نکتہ نظر الگ اور باہر الگ ہوتا ہے، ان کے پاس لیڈر شپ نہیں ہے، ن لیگ کے اندر بھی شدید لڑائی ہے، اسی طرح پیپلز پارٹی میں بھی استحکام نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پی ٹی آئی کا مقابلہ نہ کر سکی ہے اور نہ کر پائے گی۔

 ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم چوہدری شجاعت کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کا خیال ہے کہ ہم احتساب کے عمل سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو ہمارا ووٹر اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ راوی منصوبہ ہائوسنگ سوسائٹی نہیں بلکہ پورا شہر بن رہا ہے جو ایک لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر محیط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جہلم میں ہم نے میگا پراجیکٹس شروع کئے ہیں، انشاء اللہ جہلم اسلام آباد کے برابر شہر بن جائے گا۔ آج ترقیاتی کاموں کی وجہ سے یہاں زمینوں کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔ اس وقت جو انفراسٹرکچر کے منصوبے شروع کئے ہیں انشاء اللہ ان منصوبوں سے جہلم کی ترقی کا منظر ہی بدل جائے گا۔

 ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں یوریا کی قیمت 10 سے 12 ہزار روپے فی بیگ ہے جبکہ پاکستان میں اس کی قیمت بلیک مارکیٹ میں بھی 2200 سے زیادہ نہیں ہے۔ عالمی مارکیٹ اور مقامی مارکیٹ میں فرق بہت زیادہ ہے، اس وقت جس جگہ سرکاری نرخوں پر یوریا کھاد مل رہی ہے وہاں لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ کھاد کی کمی نہیں بلکہ تقسیم میں مسائل موجود ہیں جو جلد دور کر دیئے جائیں گے۔

سورس:وی این ایس، اسلام آباد