حیدرآباد؛ سندھ حکومت کے منظور کردہ بلدیاتی بل کے خلاف سیاسی جماعتوں کا مشترکہ احتجاجی مظاہرہ

31

حیدرآباد،12 جنوری (اے پی پی ): سندھ حکومت کے منظور کردہ بلدیاتی بل کے خلاف حیدرآباد میں پاکستان تحریک انصاف ، متحدہ قومی موومنٹ اورفنکشنل مسلم لیگ نے مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور حکومت ِ سندھ کے آمرانہ و یکطرفہ فیصلہ کے خلاف نعرے بازی کی۔

 مظاہرین سے سابق ڈپٹی میئر بلدیہ حیدرآباد اور ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن سید سہیل مشہدی، ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی راشد خلجی ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر مستنصر باللہ ، آصف شیخ،عمر غنی اور مسلم لیگ فنکشنل کے رہنماؤں خضر حیات منگریو اور رفیق مگسی نے خطاب کرتے ہو ئے کہاکہ سندھ کی عوام حکومت کی جانب سے جبراً منظور کردہ بلدیاتی بل کو مسترد کرچکی ہے یہ سندھ کے عوام کے ساتھ دھوکہ ہے حکومت کو اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنا چاہیے۔

 انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے اپنے 13سالہ دور اقتدار کے دوران سندھ کو تباہ و برباد کر دیا ہے، کراچی سے لیکر کشمور تک سندھ کے شہر اور دیہات کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی سندھ میں کبھی بھی بلدیاتی الیکشن کرانے میں سنجیدہ نہیں رہی اور ہمیشہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات چھینے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی سے اکثریت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے نیا ترمیمی بلدیاتی بل پاس کرایا ہے جس میں بلدیاتی نمائندوں سے تمام اختیارات چھین لئے گئے ہیں اور بلدیاتی نمائندوں کے پاس کسی بھی قسم کے مالیاتی اختیار نہیں ہوں گے جبکہ میئر کے پاس بھی صرف نالیاں صاف کرانے کا اختیار ہوگا۔

 رہنما ﺅں نے کہا کہ نئے ترمیمی بلدیاتی نظام میں شامل اداروں کو نکال کر صوبے کے حوالے کر دیا گیا ہے جس سے پیپلز پارٹی کی سیاسی نفرت ظاہر ہو رہی ہے اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ نفرت کی سیاست کی ہے اس سے قبل بھی پی پی نے ملک کو دولخت گیا تھا اور اب بھی اپنے سیاسی مفادات کے لئے پرانی روش پر چل کر سندھ کارڈ استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نیا بلدیاتی نظام واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک تمام اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری رہے گا۔